رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کر

Nabi Bakhsh Nayab

رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کر

کون ہنستا ہے کسی کو غم میں گریاں دیکھ کر

داستاں آؤ میں دردوں کی سناؤں آپ کو

بعد میرے کیا کرو گے میرا دیواں دیکھ کر

دیکھیے آئے نہ آئے ناز حوروں کا پسند

میں چلا ہوں غور سے انداز خوباں دیکھ کر

آپ کو کرتے ہوئے برباد کیوں آیا نہ رحم

آفتیں روتی ہیں میرے گھر کو ویراں دیکھ کر

عدل کو نایابؔ رکھ ہر کام میں مد نظر

حق نے دو آنکھیں تجھے بخشی ہیں میزاں دیکھ کر