دل سرابوں سے گزر کر شاد رکھ
Nadim Balkhiدل سرابوں سے گزر کر شاد رکھ
دشت میں دریا کا منظر یاد رکھ
سر اسیر سربلندی ہی رہے
کج کلاہی سے مگر آزاد رکھ
اس جہاں میں ہے زوالی ہر عروج
یاد اتنا اے ستم ایجاد رکھ
قطرۂ ناچیز سمجھا تو جسے
بند ہے اس میں سمندر یاد رکھ
بات اپنی بھول جا تو بھول جا
یاد لیکن حرمت اجداد رکھ
پاس تیشہ ہو نہ ہو اے کوہ کن
دل میں لیکن جذبۂ فرہاد رکھ
تیز آندھی کے پرند اڑنے سے قبل
شہپروں میں سختیٔ فولاد رکھ
دل ہمیشہ سنگ دل کے سامنے
بے نیاز شیوۂ فریاد رکھ
لو چلے تو مضمحل نادمؔ نہ ہو
دل صبا کی یاد سے آباد رکھ