Poetry
Poet
Meter
- جب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہےشاخ در شاخ اک احساس جواں ہوتا ہےRabab Rashidi
- دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکاگرد جب بیٹھ گئی نام تمہارا چمکاRabab Rashidi
- کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگکبھی غبار کی صورت بکھر گئے ہم لوگRabab Rashidi
- کوئی بھی عقدہ کشائے خود آگہی نہ ملامیں اپنے آپ سے بھی آج تک کبھی نہ ملاRabab Rashidi
- وہ اور ہیں جنہیں احساس تیرگی ہے بہتیہاں تو ٹوٹتے لمحوں کی روشنی ہے بہتRabab Rashidi
- یاد ماضی کہ مری لغزش پا ہو جیسےاور یہ کرب کا احساس سزا ہو جیسےRabab Rashidi
- یہ تجربہ بھی ہے ہم نے فقط سنا ہی نہیںگمان شوق سے بڑھ کر یقیں ہوا ہی نہیںRabab Rashidi
- اک حسیں پیکر تسلیم و رضا ہو جیسےایک تم دشمن ارباب وفا ہو جیسےRafi Badayuni
- جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہاجہاں میں کوئی پرستار اہل زر نہ رہاRafi Badayuni
- جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسےبات بن جائے مگر بات بنائیں کیسےRafi Badayuni
- جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیںاندھیرے دیکھیے کب روشنی سے ملتے ہیںRafi Badayuni
- حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہےہے کشتی بادباں کوئی نہیں ہےRafi Badayuni
- خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بد ظن ہےہر ایک شخص یہاں آپ اپنا دشمن ہےRafi Badayuni
- دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائےزباں پہ دعویٔ الفت ہے کیا کیا جائےRafi Badayuni
- سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میںخیال یہ ہے بلندی سے گر گیا ہوں میںRafi Badayuni
- غیر ممکن تو نہیں صاحب عرفاں ہوناشرط ہے سنگ ملامت پہ بھی خنداں ہوناRafi Badayuni
- کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہےکبھی وہ لطف مجسم دکھائی دیتا ہےRafi Badayuni
- کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کروکسی سے ملنے کی پہلے کچھ آرزو تو کروRafi Badayuni
- نگاہ شوق تجھے کامیاب کس نے کیادل تباہ کو خانہ خراب کس نے کیاRafi Badayuni
- اور تڑپائے مجھے درد جگر آج کی راتکل وہ آئیں گے نہیں آئے اگر آج کی راتراجہ نوشاد علی خان
- حضور داور محشر قیامت خیز ساماں تھاہزاروں ہاتھ تھے اور ایک قاتل کا گریباں تھاراجہ نوشاد علی خان
- دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیںادھر کے دیکھنے والے ذرا ادھر دیکھیںراجہ نوشاد علی خان
- شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کانہ یوں بن کے بگڑے مقدر کسی کاراجہ نوشاد علی خان
- کس طرح چین سے دم بھر شب فرقت میں رہےہائے وہ دل جو ترے وصل کی حسرت میں رہےراجہ نوشاد علی خان
- کیا ترے دل میں اے بت ہوں دل و جاں محفوظنہ کوئی دین ہے محفوظ نہ ایماں محفوظراجہ نوشاد علی خان
- ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہےدیکھنا ہے یہ ہمیں کس کا جمال اچھا ہےراجہ نوشاد علی خان
- یوں تڑپتے ہوئے نوشادؔ وطن سے نکلےجس طرح بلبل بیتاب چمن سے نکلےراجہ نوشاد علی خان
- خواب میں وہ مرے آغوش میں آ جاتا ہےمیری سوتی ہوئی تقدیر جگا جاتا ہےراجہ نوشاد علی خان
- دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعدجان جائے گی ہماری آپ کے جانے کے بعدراجہ نوشاد علی خان
- زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہوکعبہ کے پردے میں بت کافر چھپا نہ ہوراجہ نوشاد علی خان
- وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کاوہ دل تھام کر بیٹھ جانا کسی کاراجہ نوشاد علی خان
- ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہےیہ راہ عشق ہے یہاں دم نکل جاوے تو بہتر ہےرجب علی بیگ سرور
- اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلےفصل بہار میں جوں بلبل چمن سے نکلےرجب علی بیگ سرور
- ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کاجا بجا شہر میں چرچا ہوا رسوائی کارجب علی بیگ سرور
- فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑےباغباں غیب کا اس کا وہیں پھر سر توڑےرجب علی بیگ سرور
- قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنےمصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنےرجب علی بیگ سرور
- کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سےکہ فرقت ڈالی تجھ سے گل بدن سےرجب علی بیگ سرور
- کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیےجس کی طینت میں یہی ہو کج ادائی کیجیےرجب علی بیگ سرور
- کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میںدل چراتا ہے یار آنکھوں میںرجب علی بیگ سرور
- لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہوجل بجھیے اس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہورجب علی بیگ سرور
- مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیںاگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیںرجب علی بیگ سرور
- ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سےکار ہشیار کہیں بھی ہوا دیوانے سےرجب علی بیگ سرور
- یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلےچاہنے والا جو چاہو تو نا اصلا نکلےرجب علی بیگ سرور
- ایک دو اشک بہاتی ہے چلی جاتی ہےاب تری یاد بھی آتی ہے چلی جاتی ہےUrooj Zehra Zaidi
- جو نہیں ممکن کبھی ممکن وہ ہونا چاہیئےوہ نہیں میرا مجھے تو اس کا ہونا چاہیئےUrooj Zehra Zaidi
- سو باتوں کی بات ہے پیارے وہ جو ذات میں ہوتی ہےہر انسان کی عزت اس کے اپنے ہات میں ہوتی ہےUrooj Zehra Zaidi
- کفر کو ایماں بنا دے زندگی اے زندگیفرق این و آں مٹا دے زندگی اے زندگیUrooj Zehra Zaidi
- مانتا نہیں میری حجتیں بھی کرتا ہےبات بات میں اپنی جدتیں بھی کرتا ہےUrooj Zehra Zaidi
- ہو ترا عشق مری ذات کا محور جیسےاسی احساس کی میں ہو گئی خوگر جیسےUrooj Zehra Zaidi
- اپنی محبت کے ہاں کرنےچھپ کے نکاح کے دو بولوں پر خوش ہونے اورUrooj Zehra Zaidi