Poetry

Poet
Meter
  1. جب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہےشاخ در شاخ اک احساس جواں ہوتا ہےRabab Rashidi
  2. دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکاگرد جب بیٹھ گئی نام تمہارا چمکاRabab Rashidi
  3. کبھی بہار بنے اور سنور گئے ہم لوگکبھی غبار کی صورت بکھر گئے ہم لوگRabab Rashidi
  4. کوئی بھی عقدہ کشائے خود آگہی نہ ملامیں اپنے آپ سے بھی آج تک کبھی نہ ملاRabab Rashidi
  5. وہ اور ہیں جنہیں احساس تیرگی ہے بہتیہاں تو ٹوٹتے لمحوں کی روشنی ہے بہتRabab Rashidi
  6. یاد ماضی کہ مری لغزش پا ہو جیسےاور یہ کرب کا احساس سزا ہو جیسےRabab Rashidi
  7. یہ تجربہ بھی ہے ہم نے فقط سنا ہی نہیںگمان شوق سے بڑھ کر یقیں ہوا ہی نہیںRabab Rashidi
  8. اک حسیں پیکر تسلیم و رضا ہو جیسےایک تم دشمن ارباب وفا ہو جیسےRafi Badayuni
  9. جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہاجہاں میں کوئی پرستار اہل زر نہ رہاRafi Badayuni
  10. جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسےبات بن جائے مگر بات بنائیں کیسےRafi Badayuni
  11. جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیںاندھیرے دیکھیے کب روشنی سے ملتے ہیںRafi Badayuni
  12. حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہےہے کشتی بادباں کوئی نہیں ہےRafi Badayuni
  13. خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بد ظن ہےہر ایک شخص یہاں آپ اپنا دشمن ہےRafi Badayuni
  14. دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائےزباں پہ دعویٔ الفت ہے کیا کیا جائےRafi Badayuni
  15. سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میںخیال یہ ہے بلندی سے گر گیا ہوں میںRafi Badayuni
  16. غیر ممکن تو نہیں صاحب عرفاں ہوناشرط ہے سنگ ملامت پہ بھی خنداں ہوناRafi Badayuni
  17. کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہےکبھی وہ لطف مجسم دکھائی دیتا ہےRafi Badayuni
  18. کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کروکسی سے ملنے کی پہلے کچھ آرزو تو کروRafi Badayuni
  19. نگاہ شوق تجھے کامیاب کس نے کیادل تباہ کو خانہ خراب کس نے کیاRafi Badayuni
  20. اور تڑپائے مجھے درد جگر آج کی راتکل وہ آئیں گے نہیں آئے اگر آج کی راتراجہ نوشاد علی خان
  21. حضور داور محشر قیامت خیز ساماں تھاہزاروں ہاتھ تھے اور ایک قاتل کا گریباں تھاراجہ نوشاد علی خان
  22. دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیںادھر کے دیکھنے والے ذرا ادھر دیکھیںراجہ نوشاد علی خان
  23. شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کانہ یوں بن کے بگڑے مقدر کسی کاراجہ نوشاد علی خان
  24. کس طرح چین سے دم بھر شب فرقت میں رہےہائے وہ دل جو ترے وصل کی حسرت میں رہےراجہ نوشاد علی خان
  25. کیا ترے دل میں اے بت ہوں دل و جاں محفوظنہ کوئی دین ہے محفوظ نہ ایماں محفوظراجہ نوشاد علی خان
  26. ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہےدیکھنا ہے یہ ہمیں کس کا جمال اچھا ہےراجہ نوشاد علی خان
  27. یوں تڑپتے ہوئے نوشادؔ وطن سے نکلےجس طرح بلبل بیتاب چمن سے نکلےراجہ نوشاد علی خان
  28. خواب میں وہ مرے آغوش میں آ جاتا ہےمیری سوتی ہوئی تقدیر جگا جاتا ہےراجہ نوشاد علی خان
  29. دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعدجان جائے گی ہماری آپ کے جانے کے بعدراجہ نوشاد علی خان
  30. زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہوکعبہ کے پردے میں بت کافر چھپا نہ ہوراجہ نوشاد علی خان
  31. وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کاوہ دل تھام کر بیٹھ جانا کسی کاراجہ نوشاد علی خان
  32. ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہےیہ راہ عشق ہے یہاں دم نکل جاوے تو بہتر ہےرجب علی بیگ سرور
  33. اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلےفصل بہار میں جوں بلبل چمن سے نکلےرجب علی بیگ سرور
  34. ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کاجا بجا شہر میں چرچا ہوا رسوائی کارجب علی بیگ سرور
  35. فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑےباغباں غیب کا اس کا وہیں پھر سر توڑےرجب علی بیگ سرور
  36. قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنےمصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنےرجب علی بیگ سرور
  37. کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سےکہ فرقت ڈالی تجھ سے گل بدن سےرجب علی بیگ سرور
  38. کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیےجس کی طینت میں یہی ہو کج ادائی کیجیےرجب علی بیگ سرور
  39. کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میںدل چراتا ہے یار آنکھوں میںرجب علی بیگ سرور
  40. لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہوجل بجھیے اس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہورجب علی بیگ سرور
  41. مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیںاگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیںرجب علی بیگ سرور
  42. ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سےکار ہشیار کہیں بھی ہوا دیوانے سےرجب علی بیگ سرور
  43. یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلےچاہنے والا جو چاہو تو نا اصلا نکلےرجب علی بیگ سرور
  44. ایک دو اشک بہاتی ہے چلی جاتی ہےاب تری یاد بھی آتی ہے چلی جاتی ہےUrooj Zehra Zaidi
  45. جو نہیں ممکن کبھی ممکن وہ ہونا چاہیئےوہ نہیں میرا مجھے تو اس کا ہونا چاہیئےUrooj Zehra Zaidi
  46. سو باتوں کی بات ہے پیارے وہ جو ذات میں ہوتی ہےہر انسان کی عزت اس کے اپنے ہات میں ہوتی ہےUrooj Zehra Zaidi
  47. کفر کو ایماں بنا دے زندگی اے زندگیفرق این و آں مٹا دے زندگی اے زندگیUrooj Zehra Zaidi
  48. مانتا نہیں میری حجتیں بھی کرتا ہےبات بات میں اپنی جدتیں بھی کرتا ہےUrooj Zehra Zaidi
  49. ہو ترا عشق مری ذات کا محور جیسےاسی احساس کی میں ہو گئی خوگر جیسےUrooj Zehra Zaidi
  50. اپنی محبت کے ہاں کرنےچھپ کے نکاح کے دو بولوں پر خوش ہونے اورUrooj Zehra Zaidi