دیکھی ہے جو پت جھڑ کی فضا سوچ رہا ہوں

Nadim Balkhi

دیکھی ہے جو پت جھڑ کی فضا سوچ رہا ہوں

انجام یہی ہوگا مرا سوچ رہا ہوں

مانگوں تو وہ الٹا ہی اثر اپنا دکھائے

کیا نام اسی کا ہے دعا سوچ رہا ہوں

اغیار ہی کا ذکر فقط میں نے کیا تھا

اپنے ہوئے کیوں مجھ سے خفا سوچ رہا ہوں

انجام جو آغاز بہاراں سے ملا ہے

کیا اس نے گلستاں کو دیا سوچ رہا ہوں

برتاؤ ستم گر کا تو معلوم ہے لیکن

کیا اہل محبت سے ملا سوچ رہا ہوں

آغوش تغافل میں جو برسوں سے پڑا تھا

ہشیار وہی کیسے ہوا سوچ رہا ہوں

کیوں خود کو نہ پہچان سکا دیکھ کے نادمؔ

آئینہ کے آگے میں کھڑا سوچ رہا ہوں