سرور سے اٹے ہوئے اے موسم وصال رک

Nadeem Sirsivi

سرور سے اٹے ہوئے اے موسم وصال رک

ملے دریدہ قلب کو سکون اندمال رک

اے حیرت گلاب رخ تو اتنا لا جواب ہے

کہ کہہ اٹھے سوال سے ہمارے لب سوال رک

تجھے گلہ ہے اب وہ لذتیں رہیں نہ قربتیں

میں ڈالتا ہوں رقص عشق میں ابھی دھمال رک

نہ راس آئے گا کوئی نہ دل کو بھائے گا کوئی

ہمارے بن ڈسے گا تجھ کو عمر بھر ملال رک

پڑے گا رن اذیتوں کا سمت شہر ہجر روز

ادھر نہ جا ٹھہر ذرا تو دیکھ میرا حال رک

میں تیرے حسب ادعا نہیں ہوں وہ جو تھا کبھی

وہ تھا بھی لوٹ آئے گا اے میرے ہم خیال رک

یہ کر رہی ہیں التجا نہ جا مرے غزال رک

حواس کھو چکے ہیں سب ہوا ندیمؔ جاں بلب

تو اب نہ میرے سامنے آ حاصل جمال رک