زندہ رہنے کی طلب اس لیے پیاری نہ رہی
Nadeem Sirsiviزندہ رہنے کی طلب اس لیے پیاری نہ رہی
کوئی وقعت دل قاتل میں ہماری نہ رہی
مے کشی چھوڑ دی اس واسطے ہم نے ساقی
پہلے جیسی تری آنکھوں میں خماری نہ رہی
نیند کا زہر نگاہوں میں سمایا جب سے
رتجگوں سے مری با ضابطہ یاری نہ رہی
آخرش آ ہی گیا کشتۂ حسرت کو قرار
عمر بھر لذت آوارگی طاری نہ رہی
سیکھتا کس طرح آئین جنوں کے آداب
مجھ پہ مائل بہ کرم دید تمہاری نہ رہی
شدت ضبط سے پتھرا گئیں آنکھیں بھی ندیمؔ
غم رہا ساتھ میں پر گریہ و زاری نہ رہی