تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط

Qadr Oraizi

تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط

میری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربط

دنیا کو ہم سے کام نہ دنیا سے ہم کو کام

خاطر سے تیری رکھتے ہیں سارے جہاں سے ربط

اڑتے ہی گرد جاتی ہے جو سوئے آسماں

ہے کچھ نہ کچھ زمین کو بھی آسماں سے ربط

اظہار حال کے لئے صورت سوال ہے

ہے گفتگو سے کام نہ ہم کو زباں سے ربط

چشمے کی طرح رہتی ہیں جاری مدام یہ

آنکھوں کو ہو گیا ہے جو آب رواں سے ربط

بے ربطیوں نے قدرؔ مٹائی جو ربط کی

ہے گوشت کو بھی اپنے نہ اب استخواں سے ربط