تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط
Qadr Oraiziتیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط
میری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربط
دنیا کو ہم سے کام نہ دنیا سے ہم کو کام
خاطر سے تیری رکھتے ہیں سارے جہاں سے ربط
اڑتے ہی گرد جاتی ہے جو سوئے آسماں
ہے کچھ نہ کچھ زمین کو بھی آسماں سے ربط
اظہار حال کے لئے صورت سوال ہے
ہے گفتگو سے کام نہ ہم کو زباں سے ربط
چشمے کی طرح رہتی ہیں جاری مدام یہ
آنکھوں کو ہو گیا ہے جو آب رواں سے ربط
بے ربطیوں نے قدرؔ مٹائی جو ربط کی
ہے گوشت کو بھی اپنے نہ اب استخواں سے ربط