ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کا

Qadr Oraizi

ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کا

امکان مسلم ہے امکان محبت کا

توڑا نہیں جا سکتا پیمان محبت کا

نقصان خود اپنا ہے نقصان محبت کا

پھر ان کی نگاہوں سے ٹکرائی مری نظریں

پھر بڑھنے لگا دل میں طوفان محبت کا

ایک ایک تمنا میں لاکھوں ہیں تمنائیں

ارمانوں کی دنیا ہے ارمان محبت کا

اس واسطے مسلم کی فطرت میں محبت ہے

دیتا ہے سبق اس کو قرآن محبت کا

برباد محبت کی حالت ہے عجب حالت

ہے بے سر و سامانی سامان محبت کا

جذبات محبت کے میں لاکھ چھپاتا ہوں

کرتی ہیں مری نظریں اعلان محبت کا

گویا مرے سینے میں میزان محبت ہے

یوں دل میں جگر میں ہے پیکان محبت کا

وہ نور کا پرتو ہے یا حسن کا پرتو ہے

ہے دین محبت کا ایمان محبت کا

جو درد کا حامل ہے وہ ذوق میں کامل ہے

بے حس کو نہیں ہوتا ایقان محبت کا

اجمال یہ بے شک ہے تفصیل کا آئینہ

مضمون پہ حاوی ہے عنوان محبت کا

ہیں اس کے تصور کو گھیرے ہوئے ارماں سب

رہتا ہے فقیروں میں سلطان محبت کا

آتی ہے نظر اس میں اخلاص کی ہر صورت

آئینہ ہے آئینہ انسان محبت کا

نیرنگ محبت کا ہر شعر سے ظاہر ہے

ہے قدرؔ کا دیواں بھی دیوان محبت کا