ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کا
Qadr Oraiziہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کا
امکان مسلم ہے امکان محبت کا
توڑا نہیں جا سکتا پیمان محبت کا
نقصان خود اپنا ہے نقصان محبت کا
پھر ان کی نگاہوں سے ٹکرائی مری نظریں
پھر بڑھنے لگا دل میں طوفان محبت کا
ایک ایک تمنا میں لاکھوں ہیں تمنائیں
ارمانوں کی دنیا ہے ارمان محبت کا
اس واسطے مسلم کی فطرت میں محبت ہے
دیتا ہے سبق اس کو قرآن محبت کا
برباد محبت کی حالت ہے عجب حالت
ہے بے سر و سامانی سامان محبت کا
جذبات محبت کے میں لاکھ چھپاتا ہوں
کرتی ہیں مری نظریں اعلان محبت کا
گویا مرے سینے میں میزان محبت ہے
یوں دل میں جگر میں ہے پیکان محبت کا
وہ نور کا پرتو ہے یا حسن کا پرتو ہے
ہے دین محبت کا ایمان محبت کا
جو درد کا حامل ہے وہ ذوق میں کامل ہے
بے حس کو نہیں ہوتا ایقان محبت کا
اجمال یہ بے شک ہے تفصیل کا آئینہ
مضمون پہ حاوی ہے عنوان محبت کا
ہیں اس کے تصور کو گھیرے ہوئے ارماں سب
رہتا ہے فقیروں میں سلطان محبت کا
آتی ہے نظر اس میں اخلاص کی ہر صورت
آئینہ ہے آئینہ انسان محبت کا
نیرنگ محبت کا ہر شعر سے ظاہر ہے
ہے قدرؔ کا دیواں بھی دیوان محبت کا