اک زمیں دوز آسماں ہوں میں
Nadeem Sirsiviاک زمیں دوز آسماں ہوں میں
ہاں مری جان بے نشاں ہوں میں
مجھ کو توحید ہو چکی ازبر
لا مکاں کا نیا مکاں ہوں میں
دست قدرت کی شاہکاری کا
خود میں آباد اک جہاں ہوں میں
کب سے آمادہ سجدہ ریزی پر
آب و گل ہی کے درمیاں ہوں میں
موت سے کہیے آئے فرصت میں
ابھی مصروف امتحاں ہوں میں
کس طرح سے بنے زیادہ بات
ذرۂ کن ہوں کم زباں ہوں میں
لو سے بہتی ہوئی ضیا ہو تم
لو سے اٹھتا ہوا دھواں ہوں میں
جیسے تو میرا راز پنہاں ہے
ایسے ہی تیرا رازداں ہوں میں
جس سے لرزاں ہے پتھروں کا وجود
آئینہ زاد وہ فغاں ہوں میں
موت تو کب کی مر چکی لیکن
بزم امکاں میں جاوداں ہوں میں
تم تسلسل نئی بہاروں کا
اور اجڑی ہوئی خزاں ہوں میں
تیری یادوں کا اس میں دوش نہیں
بے سبب آج نیم جاں ہوں میں