جو چشم شوق کی حالت سے آشکار نہ تھا

Qadr Oraizi

جو چشم شوق کی حالت سے آشکار نہ تھا

وہ انتظار بہ عنوان انتظار نہ تھا

یہ اور کیا تھا کسی کا جو انتظار نہ تھا

نظر کو چین نہ تھا قلب کو قرار نہ تھا

عروج عشق میں تھیں بدگمانیاں ایسی

کسی کا ذکر ہی کیا اپنا اعتبار نہ تھا

ترے خیال کی نیرنگیوں کا تھا یہ اثر

کبھی قرار تھا دل کو کبھی قرار نہ تھا

مجھے وہاں کے نظارے کا حال کیا معلوم

جہاں نگاہ اٹھانے کا اختیار نہ تھا

نہ آئے وہ مجھے تھا جن کا انتظار شدید

قیامت آئی قیامت کا انتظار نہ تھا

قرار اس کی جدائی میں کس طرح آتا

خیال جب کسی مرکز پہ برقرار نہ تھا

جو اعتبار دلایا تھا آپ نے مجھ کو

وہ اعتبار کا دھوکہ تھا اعتبار نہ تھا

جب اس کے سامنے پہنچا ہوں میں نہیں معلوم

قرار تھا مجھے اس وقت یا قرار نہ تھا

اڑائے تھے ترے جلوے نے جس کے ہوش و حواس

وہ ہوشیار ہوا بھی تو ہوشیار نہ تھا

جمال یار کا عین الیقیں تھا لیکن

مری نظر کا مرے دل کو اعتبار نہ تھا

ہمارے دل کا تلون ارے معاذ اللہ

نظام فکر بہرحال برقرار نہ تھا

وہ کس مقام پہ تھا تیرا نقش پا ایسا

جو میرے سجدۂ الفت کی یادگار نہ تھا

میں کیا بتاؤں انہیں قدرؔ جو یہ پوچھتے ہیں

بھر آئیں کس لیے آنکھیں جو دل پہ بار نہ تھا