وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگے
Nabi Bakhsh Nayabوحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگے
مجنوں ہوں میں کیا جیب و گریباں مرے آگے
رکھتا ہوں میں سو داغ فراق اک جگر پر
ہے خار سے کم رتبہ گلستاں مرے آگے
دوزخ کو بجھاتا ہوں میں اک اشک سے اپنے
ہے قطرہ سے کم نوح کا طوفاں مرے آگے
روتی ہے مرے خوف سے شبنم بہ سر گل
اصلاح کو بلبل ہے غزل خواں مرے آگے
عاشق ہوں مری جان ہتھیلی پہ دھری ہے
کیا تاب کہ ہو خنجر براں مرے آگے
دنیا کی شش و پنج میں نایابؔ کہاں تک
یہ کام ہیں سب بازیٔ طفلاں مرے آگے