تن بدن سے جان ہی تو صرف اڑا لے جائے گی
Nadim Balkhiتن بدن سے جان ہی تو صرف اڑا لے جائے گی
زندگی سے موت آ کر اور کیا لے جائے گی
جس طرح میری خوشی لیتی گئی وہ چھین کر
گردش حالات یہ غم بھی اٹھا لے جائے گی
میری جس آواز کو رہنا ہے میرے بعد بھی
کیا زمانے کی ہوس اس کو چرا لے جائے گی
کام اگر کچھ بھی نہ آئے گا مرا ضبط الم
وحشت دل ہی مری حالت سنبھالے جائے گی
رنگ جن کا سبز ہے وہ کب گریں گے پیڑ سے
دھوپ کی رت زرد پتے ہی اڑا لے جائے گی
زیست کو نادمؔ اسی دم ہی ملے گا کچھ قرار
درد دل سے درد سر کی جب دوا لے جائے گی