مجھے جو دور سے لگتا تھا آب کا دریا
Nadim Balkhiمجھے جو دور سے لگتا تھا آب کا دریا
گیا قریب تو پایا سراب کا دریا
کبھی ثواب کے ساحل سے لگ نہیں سکتی
وہ ناؤ جس کے لئے ہے عذاب کا دریا
بظاہر آب رواں کا جو اک خزانہ ہے
حقیقتاً ہے وہ دریا حباب کا دریا
مطالعہ کی جو وادی سے ہو کے بہتا ہے
وہ ہے مری نگہ انتخاب کا دریا
پرند فکر کی پرواز جب ہوئی ہے بلند
فلک سے عرش پہ اترا سحاب کا دریا
حقیقتوں کے جو ساحل کو چھوڑ کر بھٹکے
ملا ہے ان کو تصور میں خواب کا دریا
سراب دشت میں پیاسوں کے واسطے نادمؔ
بہا دیا ہے سخاوت کے آب کا دریا