ضبط کر آہ بار بار نہ کر
Qadr Oraiziضبط کر آہ بار بار نہ کر
غم الفت کو شرمسار نہ کر
جس کو خود اپنا اعتبار نہ ہو
ایسے انساں کا اعتبار نہ کر
اس کے فضل و کرم پہ رکھ نظریں
اپنے سجدوں کا اعتبار نہ کر
باغ اجڑنے کا غم ہی کیا کم ہے
جانے بھی دے غم بہار نہ کر
لوگ تجھ کو حقیر سمجھیں گے
حد سے زائد بھی انکسار نہ کر
وقت سے فائدہ اٹھا لیکن
وقت کا کوئی اعتبار نہ کر
لطف اٹھا بس نگاہ اول سے
ہر نظر کو گناہ گار نہ کر
جس سے فتنے بپا ہوں دنیا میں
ایسے غافل کو ہوشیار نہ کر
قدرؔ کو تو نے دی ہے جب عزت
اے خدا اس کو بے وقار نہ کر