شعور عشق ملے روئے دار رقص کروں
Nadeem Sirsiviشعور عشق ملے روئے دار رقص کروں
ہیں میرے پاس بہانے ہزار رقص کروں
گلوئے خشک کی شہ رگ تھک کے کہتی ہے
کچھ اور تیز ہو خنجر کی دھار رقص کروں
طواف خانۂ دل دار گر نصیب نہیں
خود اپنے دل کا بنا کر مزار رقص کروں
برہنہ جسم ہے کہنہ لباس پھٹ گیا ہے
سو اوڑھ کر میں ردائے غبار رقص کروں
اجاڑ دشت میں مقتل یہ بار بار سجے
لہو میں ڈوب کے میں بار بار رقص کروں
انی کچھ اور چبھا اے ستم شعار کہ میں
تڑپ کے درد میں بے بند و بار رقص کروں
دعا ہے میری میں زخموں کی تاب لا نہ سکوں
شراب موت کا جاگے خمار رقص کروں
سنا چکا سر نیزہ میں ایک تازہ غزل
ندیمؔ ہے مجھے اب اختیار رقص کروں