گرفت کرب سے آزاد اے دل ہو ہی جاؤں گا
Nadeem Sirsiviگرفت کرب سے آزاد اے دل ہو ہی جاؤں گا
ابھی رستہ ہوں میں اک روز منزل ہو ہی جاؤں گا
اتر جانے دے وحشت میرے سر سے حبس خلوت کی
میں بالتدریج پھر مانوس محفل ہو ہی جاؤں گا
گرے گر مجھ پہ برق التفات چشم تر ہر دم
تو میں بالجبر تیری سمت مائل ہو ہی جاؤں گا
بصد ترکیب رکھے ہیں قدم ترتیب سے میں نے
اگر ترتیب یہ بگڑی میں زائل ہو ہی جاؤں گا
متاع جاں تو میری ذات کا حصہ ہے اک دن میں
تو مل جائے گا تو انسان کامل ہو ہی جاؤں گا
مری مظلومیت کی روشنی ہر سو بکھرنے دے
سر مقتل میں پیش تیغ قاتل ہو ہی جاؤں گا
ذرا سا ٹھہر جائیں بے خودی کی مضطرب موجیں
اے دشت غم میں اک خاموش ساحل ہو ہی جاؤں گا
پیمبر درد کا بن کے تو گر دنیا میں آئے گا
صحیفہ بن کے اشکوں کا میں نازل ہو ہی جاؤں گا
کہا اس نے قریب آ کر ندیمؔ اشعار کی صورت
رگ افکار میں تیری میں شامل ہو ہی جاؤں گا