دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا
Nadeem Sirsiviدوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا
وہ پاگل پھر مرا ہو جائے گا کیا
لہو تازہ زمیں پر تھوکنے سے
جنوں کا حق ادا ہو جائے گا کیا
یہ دل بیت الشرف ہے حادثوں کا
یہ دل مسکن ترا ہو جائے گا کیا
اندھیری رات کا دامن جلا کر
چراغوں کا بھلا ہو جائے گا کیا
تری آنکھوں میں پل بھر جھانکنے سے
محبت کا نشہ ہو جائے گا کیا
جسے حاصل کیا سب کچھ گنوا کر
وہ ایسے ہی جدا ہو جائے گا کیا
ضرورت جس کے آگے سر جھکا دے
بتاؤ وہ خدا ہو جائے گا کیا
قیافہ پارسائی کا بنا کر
تو سچ میں پارسا ہو جائے گا کیا
اگر میں پھوڑ دوں سورج کی آنکھیں
اندھیرا جا بہ جا ہو جائے گا کیا
کئی راتیں مسلسل جاگنے سے
تو اک شاعر بڑا ہو جائے گا کیا
مرے اک لمس کی حدت پہن کر
وہ پتھر موم کا ہو جائے گا کیا
ہمارے بے بضاعت فاصلوں سے
تعلق ناروا ہو جائے گا کیا
وہ کہتے ہیں بنی لمحے میں دنیا
یہ سب کچھ برملا ہو جائے گا کیا
حقیقت میں تو میرے سامنے ہے
یہ منظر خواب سا ہو جائے گا کیا
ندیمؔ اب مان جا اشعار مت لکھ
تو یوں ہی باؤلا ہو جائے گا کیا