جب بڑھا درد کی موجوں کا دباؤ صاحب
Nadeem Sirsiviجب بڑھا درد کی موجوں کا دباؤ صاحب
میری سانسوں کی لرزنے لگی ناؤ صاحب
اس سے بڑھ کر نہیں افسردہ مزاجی کا علاج
دل اگر روئے تو اوروں کو ہنساؤ صاحب
گھپ اندھیرے میں اگاتا ہوں سخن کا سورج
بے سبب تھوڑی ہے راتوں سے لگاؤ صاحب
جب نہیں ملتی نئے زخم کی سوغات مجھے
چھیل دیتا ہوں پرانا کوئی گھاؤ صاحب
جس کی دانائی نے منسوخ کئے ہوش و حواس
ایسے نادان پہ پتھر نہ اٹھاؤ صاحب
میں نے اس حسن مجسم کی زیارت کی ہے
میری آنکھوں کے ذرا دام لگاؤ صاحب
بجلیاں وصل کی سانسوں پہ گراؤ صاحب
رخ سے بھیگی ہوئی زلفوں کو ہٹاؤ صاحب
جیسے صحراؤں میں ملتے ہیں دو پیاسے دریا
ہونٹ سے ہونٹ کچھ اس طرح ملاؤ صاحب
دل محبت کی ثقافت کا ازل سے ہے امیں
اس شہنشاہ کو نفرت نہ سکھاؤ صاحب
جیت کر جشن منانا تو ہوئی عام سی بات
ہار کر بھی تو کبھی جشن مناؤ صاحب
ہم نئے عہد کے سقراط ہیں اس بار ہمیں
زہر کا پیالہ نہیں جام پلاؤ صاحب