Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. شرافت چھین لیتی ہے صداقت چھین لیتی ہےقلم کاروں سے خودداری ضرورت چھین لیتی ہےAalam Nizami (b. 1984)
  2. عشق میرا ہے اگر رات کی رانی کی طرححسن اس کا بھی ہے پھولوں کی جوانی کی طرحAalam Nizami (b. 1984)
  3. عشق میں جاننا ضروری ہےکیا نہیں اور کیا ضروری ہےAalam Nizami (b. 1984)
  4. فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کواتنی راس آئی مرے گھر کی چٹائی مجھ کوAalam Nizami (b. 1984)
  5. کبھی شفق تو کبھی گل کبھی جناں مہکےتمہارے نقش قدم بھی کہاں کہاں مہکےAalam Nizami (b. 1984)
  6. کسی کے ذہن میں کیا ہے نظر نہیں آتامزاج پڑھنے کا سب کو ہنر نہیں آتاAalam Nizami (b. 1984)
  7. کہاں تمام ابھی کربلا کا منظر ہےہمارے ساتھ نئے حوصلوں کا لشکر ہےAalam Nizami (b. 1984)
  8. کیا بتاؤں کسی کو ہے کیا دوستیہے غم زندگی کی دوا دوستیAalam Nizami (b. 1984)
  9. کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والےاور بھی ہیں مجھے سینے سے لگانے والےAalam Nizami (b. 1984)
  10. کیسے کہہ دوں کہیں اعلان نہیں کرتا ہےوہ بھی خاموشی سے احسان نہیں کرتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  11. کیوں ہو مجھ سے خفا کہو تو سہیکیا ہے میری خطا کہو تو سہیAalam Nizami (b. 1984)
  12. گھر میں آرام کا سایہ نہیں رہنے دیتیاب تو تنہائی بھی تنہا نہیں رہنے دیتیAalam Nizami (b. 1984)
  13. مادر ہند کی عظمت کا پتہ چلتا ہےحسن کشمیر سے جنت کا پتہ چلتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  14. موسم وقت بدلنا ہے بدل جائے گااژدہا رات کا سورج کو نگل جائے گاAalam Nizami (b. 1984)
  15. میرے خوابوں کو نگلنے کا ارادہ نہ کرےکہہ دو سورج سے نکلنے کا ارادہ نہ کرےAalam Nizami (b. 1984)
  16. میں سمجھ رہا تھا کہ وقت نے ترا نام دل سے مٹا دیاشب غم مگر تری یاد نے مجھے آج پھر سے رلا دیاAalam Nizami (b. 1984)
  17. نقش ہستی مٹا بھی دیتا ہےحادثہ حوصلہ بھی دیتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  18. نور پیہم سفر میں رہتا ہےاس کا چہرا نظر میں رہتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  19. وہ تصور میں تو آتا ہے چلا جاتا ہےدھڑکنیں دل کی بڑھاتا ہے چلا جاتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  20. ہمیں خبر ہے وہ کیوں ہم سے اب نہیں ملتایہاں کسی سے کوئی بے سبب نہیں ملتاAalam Nizami (b. 1984)
  21. ہیں الجھنیں تمام مری زندگی کے ساتھانصاف کر رہا ہوں مگر شاعری کے ساتھAalam Nizami (b. 1984)
  22. یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہےخود سے مل کر ہمیں راحت بھی نہیں ملتی ہےAalam Nizami (b. 1984)
  23. اس نے ایسے کہا شکریہ محترممیں بھی خود کو سمجھنے لگا محترمYasir Raza Asif (b. 1984)
  24. اور بھی کوئی رب سے ملنے کا رستہ ہے بابا جیدنیا کو ہم کھو نہ بیٹھیں جی ڈرتا ہے بابا جیYasir Raza Asif (b. 1984)
  25. ایسی ٹھہری ہے رت خزاؤں کیہم کو حسرت رہی ہے چھاؤں کیYasir Raza Asif (b. 1984)
  26. بارود کے ذرے جو فضاؤں میں رہیں گےپھر کیسے پرندے یہ ہواؤں میں رہیں گےYasir Raza Asif (b. 1984)
  27. تنہا کب ہوں میرے سنگ پرندے ہیںسپنے بھی تو رنگا رنگ پرندے ہیںYasir Raza Asif (b. 1984)
  28. جب مال و زر ایمان ہوا نقصان ہواپھر ہر جانب اعلان ہوا نقصان ہواYasir Raza Asif (b. 1984)
  29. چپ کی طاقت سے گزارہ نہیں ہونے والااب شرافت سے گزارہ نہیں ہونے والاYasir Raza Asif (b. 1984)
  30. دھڑکنوں کی سب کہانی ختم شدمیری آنکھوں کا بھی پانی ختم شدYasir Raza Asif (b. 1984)
  31. دیواروں سے بنتی ہے کب درویشوآؤ شہر سے کوچ کریں اب درویشوYasir Raza Asif (b. 1984)
  32. ساتھ لے کر آئے ہیں وہ روشنی اور چند پھولمنسلک باہم ہوئے ہیں زندگی اور چند پھولYasir Raza Asif (b. 1984)
  33. سنبھل سنبھل کے چلو گے تو فائدہ ہوگابڑوں کی بات سنو گے تو فائدہ ہوگاYasir Raza Asif (b. 1984)
  34. کچھ سزائیں اور بھی ہیں تازیانوں سے پرےاک اسیری اور بھی ہے قید خانوں سے پرےYasir Raza Asif (b. 1984)
  35. گھر کے بڑے بوڑھوں کو یہی کہتے سنا ہےجھک جھک کے جو ملتا ہے وہی قد میں بڑا ہےYasir Raza Asif (b. 1984)
  36. میں نے اک آواز سنی تھی کمرے میں خاموشی کیمیرے کان میں آ کر تیری یادوں نے سرگوشی کیYasir Raza Asif (b. 1984)
  37. نت نئے ظلم جھیلتا ہوں میںجرم یہ ہے کہ سوچتا ہوں میںYasir Raza Asif (b. 1984)
  38. ہنس کر ملتے ہو بھائیبغض بھی رکھتے ہو بھائیYasir Raza Asif (b. 1984)
  39. اپنا تمہیں بنانا تھا کہہ کر بنا لیاطرز وفا کا اک نیا دفتر بنا لیاChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  40. بھٹکتا ہوں مگر کھویا نہیں ہوںبنائی راہ پہ چلتا نہیں ہوںChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  41. جب شہر دل میں پڑ گئے اس زر بدن کے پاؤںپڑتے نہیں زمین پہ اب اس چمن کے پاؤںChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  42. جنگلوں میں جو خدا تتلیاں محفوظ رکھےتو زمانے میں وہی لڑکیاں محفوظ رکھےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  43. دار و رسن پہ ہر کوئی منصور تو نہیںجھلسے ہوئے پہاڑ سبھی طور تو نہیںChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  44. رسی تو جل گئی مگر اینٹھن نہیں گئیچاہت تمہاری یوں دم کشتن نہیں گئیChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  45. سورج اس کے گھر کی کوئی کھڑکی ہےصبح کھلے تو شام کو بند ہو جاتی ہےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  46. شگاف خانۂ دل سے ہی روشنی آئیاسے تو آنا تھا ہر حال میں چلی آئیChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  47. کیا اندھیرا ہے کیا اجالا ہےیہ نظریے کا بس حوالہ ہےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  48. مجھے یقیں ہے کوئی راستہ تو نکلے گااگر جو کچھ نہیں نکلا خدا تو نکلے گاChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  49. وصل کی آخری منزل ہے فنا ہو جاناتجھ سے مل کر ترے بندے کا خدا ہو جاناChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)
  50. ہے خوشی سے کس طرح غم کا خسارہ دیکھیےآسمان یاس پر اگتا ستارا دیکھیےChandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)