جب مال و زر ایمان ہوا نقصان ہوا

Yasir Raza Asif (b. 1984)

جب مال و زر ایمان ہوا نقصان ہوا

پھر ہر جانب اعلان ہوا نقصان ہوا

تھے جس کے ہجر میں شعر کہے وہ لوٹ آیا

پھر پورا کب دیوان ہوا نقصان ہوا

جن یادوں کو محدود کیا وہ پھیل گئیں

ان کی جانب میلان ہوا نقصان ہوا

وہ میرے شہر میں آ کر بھی نہیں مل پایا

وہ دشمن کا مہمان ہوا نقصان ہوا

پھر بستی جل کے راکھ ہوئی اور لوگ مرے

بس جاری اک فرمان ہوا نقصان ہوا

ہم سب کا ہونا اور نہ ہونا ایک سا ہے

اب یہ کیسا وجدان ہوا نقصان ہوا

اب شہر میں آصفؔ بربادی کے ڈیرے ہیں

ابن آدم بھگوان ہوا نقصان ہوا