جنگلوں میں جو خدا تتلیاں محفوظ رکھے

Chandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)

جنگلوں میں جو خدا تتلیاں محفوظ رکھے

تو زمانے میں وہی لڑکیاں محفوظ رکھے

میں نے اک فصل اگا رکھی ہے درد دل کی

میری آنکھوں میں قضا بدلیاں محفوظ رکھے

بادباں کھول دیا ہم نے فلک کو کہہ دو

آندھیاں واندھیاں یہ بجلیاں محفوظ رکھے

دشت و صحرا میں رکھے عشق کو زندہ جو وہ

شہر کے بیچ میں ویرانیاں محفوظ رکھے

جب قفس دے ہی دیا ہے مری قسمت میں تب

وحشت عشق سے یہ تیلیاں محفوظ رکھے