نقش ہستی مٹا بھی دیتا ہے
Aalam Nizami (b. 1984)نقش ہستی مٹا بھی دیتا ہے
حادثہ حوصلہ بھی دیتا ہے
سب وفادار تو نہیں ہوتے
یار کوئی دغا بھی دیتا ہے
وقت کرتا ہے چشم پوشی بھی
ہاتھ میں آئنہ بھی دیتا ہے
آنکھ میں چبھتا ہے غبار مگر
قافلہ کا پتہ بھی دیتا ہے
آج کے دور میں ہوا ثابت
کھوٹا سکہ صدا بھی دیتا ہے