میں سمجھ رہا تھا کہ وقت نے ترا نام دل سے مٹا دیا

Aalam Nizami (b. 1984)

میں سمجھ رہا تھا کہ وقت نے ترا نام دل سے مٹا دیا

شب غم مگر تری یاد نے مجھے آج پھر سے رلا دیا

نہ ہے تیرگی سے گلہ کوئی نہ ہے روشنی کی طلب مجھے

مری حسرتوں کے چراغ کو تری بے رخی نے بجھا دیا

یہ مرے ہی ظرف کی بات تھی نہ کسی سے کچھ بھی کہا مگر

تری فرقتوں کا جو درد تھا مرے آنسوؤں نے بتا دیا

مرے ہمنشیں مرے ہم نوا تجھے نذر کیا کروں میں بتا

مرا دل بھی میرا نہیں رہا ترے عشق میں ہی لٹا دیا

نہ مسرتوں سے سکون کی کبھی چند سانسیں عطا ہوئیں

غم زندگی ترا شکریہ مجھے تو نے جینا سکھا دیا

کہوں اس کو اچھا یا میں برا نہیں ہوتا مجھ سے یہ فیصلہ

کبھی دوستی نے وفا کیا کبھی دوستی نے دغا دیا