بارود کے ذرے جو فضاؤں میں رہیں گے

Yasir Raza Asif (b. 1984)

بارود کے ذرے جو فضاؤں میں رہیں گے

پھر کیسے پرندے یہ ہواؤں میں رہیں گے

وحشت زدہ ماحول ہمیں کھانے لگا ہے

اب سوچ لیا ہے کسی گاؤں میں رہیں گے

اب گاڑ دئے ہیں یہاں خیمے تو کریں کیا

ہم خوش ہیں کہ ہجرت کی بلاؤں میں رہیں گے

جب دل میں چھپے پیار نے دم توڑ دیا تو

پھر سارے ہی جذبے یہ خلاؤں میں رہیں گے

تربت کوئی کیسے انہیں آغوش میں لے گی

مسلے ہوئے یہ پھول جو پاؤں میں رہیں گے

بدلے ہوئے ماحول پہ میں سوچ رہا ہوں

کیا پیار کے جذبے کبھی ماؤں میں رہیں گے