دیواروں سے بنتی ہے کب درویشو
Yasir Raza Asif (b. 1984)دیواروں سے بنتی ہے کب درویشو
آؤ شہر سے کوچ کریں اب درویشو
آنے والا وقت بتائے گا ہم کو
کس رستے پر کاٹیں گے شب درویشو
اس دھرتی کا چہرہ خون سے لتھڑا ہے
تم حرکت میں آؤ گے کب درویشو
مجھ کو بھی اک رمز عنایت ہو جائے
میرے بارے بھی سوچو اب درویشو
میرے گھر میں ماں کی سانسیں بستی ہیں
میرے گھر میں رہتا ہے رب درویشو
ان کے شہر میں اک کٹیا کی خواہش ہے
اتنا سا مل جائے منصب درویشو
اندر گھور اندھیرے آصفؔ بستے ہیں
باہر روشن روشن ہے سب درویشو