سورج اس کے گھر کی کوئی کھڑکی ہے
Chandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)سورج اس کے گھر کی کوئی کھڑکی ہے
صبح کھلے تو شام کو بند ہو جاتی ہے
نسل آدم جس کے پیچھے ہے پاگل
دنیا جنت سے بھاگی اک لڑکی ہے
عشق بھی فرض ہے تیرے انساں ہونے کا
شادی بھی ساماجک ذمہ داری ہے
نیلا دوپٹہ یاد ہے کیا تم کو اس کا
آسمان کے سینہ پر جو بھاری ہے
دل سے آنکھوں تک اک ندی ہے جس میں
ہر دم الٹی گنگا بہتی رہتی ہے
دنیا ہے احساس کا اک بیکل دریا
عشق تو پار اترنے کی تیاری ہے
آگ لگی ہے دل میں پھر بھی غم ہے مکین
جیسے تتلی انگارے پر بیٹھی ہے
کانٹے تو چبھتے ہیں کیول پاؤں میں
پھولوں کی دل کے چھالوں سے یاری ہے
رام نہیں ہوں میں نہ تو وہ ہی ہے سیتا
پاگل لڑکی ساری بات سمجھتی ہے
شمسؔ ہوا میں رہنے سے تو لاکھ گنا
بہتر ہے وہ شخص کہ جس پر مٹی ہے