موسم وقت بدلنا ہے بدل جائے گا
Aalam Nizami (b. 1984)موسم وقت بدلنا ہے بدل جائے گا
اژدہا رات کا سورج کو نگل جائے گا
شیشۂ دل کی صفائی پہ توجہ دیجے
موسم وقت بہر حال بدل جائے گا
بس وہی دوستو اس دور کا موسیٰ ہوگا
راہ پانی میں بنا کر جو نکل جائے گا
ساتھ جو ماں کی دعائیں ہیں تو انشاءاللہ
حادثہ راہ میں آئے گا تو ٹل جائے گا
کیا خبر تھی کہ ذرا چین کے دن آتے ہی
میرے ہمسائے کا لہجہ ہی بدل جائے گا
لوگ آ جائیں گے مٹی کے حوالے کر کے
تیرے ہم راہ فقط تیرا عمل جائے گا
آنچ ایثار کے شعلوں کی دکھاؤ عالمؔ
سخت پتھر بھی جو ہوگا تو پگھل جائے گا