اور بھی کوئی رب سے ملنے کا رستہ ہے بابا جی

Yasir Raza Asif (b. 1984)

اور بھی کوئی رب سے ملنے کا رستہ ہے بابا جی

دنیا کو ہم کھو نہ بیٹھیں جی ڈرتا ہے بابا جی

کل اور جز کی رام کہانی مجھ کو سمجھ نہیں آتی

سنتے ہیں قطرہ بھی دریا ہو جاتا ہے بابا جی

دھوپ کی دستک کیسے اس کو باہر لے کر آتی ہے

پیڑ میں ہی پوشیدہ کیا سایہ ہوتا ہے بابا جی

آپ نے ہم کو بتلایا تھا موت تو اک دروازہ ہے

لوگ سمجھتے ہیں کہ بندہ مر جاتا ہے بابا جی

میری سوچوں کا لاوا ہی مجھ کو زندہ رکھتا ہے

ورنہ برفیلے لہجوں سے خوں جمتا ہے بابا جی

میں نے جب بھی سوچا ہے بس اپنی ذات کا سوچا ہے

میرا لکھا کیسے زندہ رہ سکتا ہے بابا جی

اسی لیے تو آصفؔ بھی اک چپ سی سادھے پھرتا ہے

کون یہاں پر اس کی باتوں کو سنتا ہے بابا جی