کہاں تمام ابھی کربلا کا منظر ہے
Aalam Nizami (b. 1984)کہاں تمام ابھی کربلا کا منظر ہے
ہمارے ساتھ نئے حوصلوں کا لشکر ہے
تجھے ہے شوق بہت ظرف ناپنے کا مگر
مرے رفیق یہ دریا نہیں سمندر ہے
اس انقلاب کو دنیا میں کون روکے گا
جو زلزلے کی طرح میرے دل کے اندر ہے
جو دیپ جلتا رہا رات بھر مری خاطر
مرے لئے تو وہی سورجوں سے بہتر ہے
زمین والے اسے صرف دیکھ سکتے ہیں
وہ چاند ہے اسے چھونا کہاں میسر ہے
ترے بغیر بھی دیوار و در چمکتے ہیں
ترے بغیر بھی گھر کا دیا منور ہے