Poetry
Poet
Meter
- اسے پسند ہیں جو روز و شب تماشے ہیںتماشبین کی دنیا ہی اب تماشے ہیںYawar Azeem (b. 1984)
- بنا لیتا میں تجھ کو ہم سفر کچھ سال پہلے تکمگر اس بات سے لگتا تھا ڈر کچھ سال پہلے تکYawar Azeem (b. 1984)
- تمام رشتوں کو بے کدورت بنا دیا ہےہمیں محبت نے خوب صورت بنا دیا ہےYawar Azeem (b. 1984)
- تیور تمہارے دیکھ کر آدھا سخن کروںورنہ میں چاہتا ہوں زیادہ سخن کروںYawar Azeem (b. 1984)
- جنس دل لے کر بھرے بازار تک پہنچا نہیںایک تک پہنچا ہوں میں دو چار تک پہنچا نہیںYawar Azeem (b. 1984)
- خوشی کے دن ہوں تو اجلا لباس سب پہنیںاور ایک ہم کہ وہی جامۂ تعب پہنیںYawar Azeem (b. 1984)
- فضائے شہر کو وحشت اثر تسلیم کرتے ہیںدلوں میں چھپ کے بیٹھا ہے جو ڈر تسلیم کرتے ہیںYawar Azeem (b. 1984)
- مرے کاغذ پہ ہیں لفظوں کے تابندہ ستارےزمین شعر سے نکلے درخشندہ ستارےYawar Azeem (b. 1984)
- میں رفعتوں کی انوکھی مثال ہونے لگایہ آسماں مرے کاندھوں کی شال ہونے لگاYawar Azeem (b. 1984)
- ہر آدمی میں تعلق کی بھوک پیدا کرتو خود میں عادت حسن سلوک پیدا کرYawar Azeem (b. 1984)
- پھوٹ کر روؤں نہ کیوں میں خواب کی تعبیر پرخون کے دیکھے ہیں قطرے آج پھر زنجیر پرAadil Farhat (b. 1984)
- تیرے پیاسوں کو سزا دی گئی ہےتشنگی اور بڑھا دی گئی ہےAadil Farhat (b. 1984)
- خود اداسی میں تو اپنی یہ کمی رکھی ہےساتھ جب تک ہے وہ چہرے پہ ہنسی رکھی ہےAadil Farhat (b. 1984)
- سارے عالم کا یہی ارمان ہونا چاہئےتو نہیں تو یہ جہاں ویران ہونا چاہئےAadil Farhat (b. 1984)
- سچ ہوا خواب تو تعبیر نہیں کھینچ سکامیں ترے جسم پہ تحریر نہیں کھینچ سکاAadil Farhat (b. 1984)
- کبھی سکون کبھی ہم گھٹن کی نذر ہوئےہم ایسے لوگ تو اپنے ہی من کی نذر ہوئےAadil Farhat (b. 1984)
- کوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعدکہ ایک شخص نہ بھایا ترے وصال کے بعدAadil Farhat (b. 1984)
- میں جل گیا تھا جسے راستہ دکھاتے ہوئےاسے ترس نہیں آیا مجھے بجھاتے ہوئےAadil Farhat (b. 1984)
- تمہیں پتا ہے محبت کیا ہےنہیںTabassum Zia (b. 1984)
- دروازے کیا ہوتے ہیںکیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیںTabassum Zia (b. 1984)
- فن کے بت کدے میں داخل ہو کراپنے رنگوں میں ہاتھ گھولناTabassum Zia (b. 1984)
- کلن کی خود کلامیمیں بیاہ رچاؤں گیTabassum Zia (b. 1984)
- کوئی کہتا ہے خدا زمیں سے گیا نہیںمگر کیا وجہ ہے کہ شیطان بوڑھے نہیں ہوتےTabassum Zia (b. 1984)
- گرمیوں کے موسم میںلالٹین کی آگ سینکتے ہیںTabassum Zia (b. 1984)
- میرے دل میں اگتی پیار کی فصل کوجب لوگوں کی نفرت کے فضلے کی کھاد ملیTabassum Zia (b. 1984)
- میں تنہا تھاکل بھی اور آج بھیTabassum Zia (b. 1984)
- جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیںان دنوں گردش حالات میں آئے ہوئے ہیںZaeem Rasheed (b. 1984)
- دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھگزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھZaeem Rasheed (b. 1984)
- یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گیجو وہ ملا تو میں خرچ کر دوں گا ایک پل میںZaeem Rasheed (b. 1984)
- بے آباد گھروں میں ایسا ہوتا ہےدور کے دیس کو جانے والا کولہو کا ایک بیل بنا ہےZaeem Rasheed (b. 1984)
- ہوا کو جانے یہ کیا ہوا ہےوہ سر سے پاؤں تک آج کس سبز کپکپاہٹ میں مبتلا ہےZaeem Rasheed (b. 1984)
- بات ساحل کی رکھے ٹوٹا شکارا دیکھ لےپاس تو مجھدھار ہے کیوں کر کنارا دیکھ لےSaaieb S. M. Patil (b. 1984)
- پھر سے تیرا خیال آیا ہےدرد میں اک ابال آیا ہےSaaieb S. M. Patil (b. 1984)
- جان اس دل کی بچانے کے لیےیاد آ بس یاد آنے کے لیےSaaieb S. M. Patil (b. 1984)
- اب اگر اور چپ رہوں گا میںپھر یہ طے ہے کہ پھٹ پڑوں گا میںJahangeer nayab (b. 1985)
- اپنے حصار ذات میں الجھا ہوا ہوں میںیعنی کہ کائنات میں الجھا ہوا ہوں میںJahangeer nayab (b. 1985)
- اچھا ہوں یا برا ہوں مجھے کچھ نہیں پتانظروں میں تیرے کیا ہوں مجھے کچھ نہیں پتاJahangeer nayab (b. 1985)
- اس طرح کھو گیا ہوں میں اپنے وجود میںاب خود کو ڈھونڈتا ہوں میں اپنے وجود میںJahangeer nayab (b. 1985)
- باعث آسودگی ہے حشر سامانی مجھےراس آتی ہے بڑی مشکل سے آسانی مجھےJahangeer nayab (b. 1985)
- بیان حال مفصل نہیں ہوا اب تکجو مسئلہ تھا وہی حل نہیں ہوا اب تکJahangeer nayab (b. 1985)
- تماشہ اپنا سر رہ گزر بنایا جائےجو راہزن ہے اسے راہ بر بنایا جائےJahangeer nayab (b. 1985)
- جنون شوق یقیں ضابطے سے آئی ہےاڑان مجھ میں مرے حوصلے سے آئی ہےJahangeer nayab (b. 1985)
- حرف سے تاثیر لفظوں سے معنی لے گیاجاتے جاتے وہ مری جادو بیانی لے گیاJahangeer nayab (b. 1985)
- خود اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوںسمجھتے ہیں وہ میں ان سے خفا ہوںJahangeer nayab (b. 1985)
- دل سے نکال یاس کہ زندہ ہوں میں ابھیہوتا ہے کیوں اداس کہ زندہ ہوں میں ابھیJahangeer nayab (b. 1985)
- کہا ہے میں نے یہ کب ماہتاب مل جائےمجھے تو بس مری آنکھوں کا خواب مل جائےJahangeer nayab (b. 1985)
- کیوں ظلم ڈھا رہا ہوں میں اپنے وجود پرکیچڑ اچھالتا ہوں میں اپنے وجود پرJahangeer nayab (b. 1985)
- مرکز میں تھا سو دھیان میں رکھا گیا مجھےہر وقت امتحان میں رکھا گیا مجھےJahangeer nayab (b. 1985)
- مری بلا سے زمانہ خلاف ہو جائےمیں چاہتا ہوں ترا ذہن صاف ہو جائےJahangeer nayab (b. 1985)
- مشکل میں ڈالتا ہوں میں اپنے وجود کوآساں بنا رہا ہوں میں اپنے وجود کوJahangeer nayab (b. 1985)