Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اسے پسند ہیں جو روز و شب تماشے ہیںتماشبین کی دنیا ہی اب تماشے ہیںYawar Azeem (b. 1984)
  2. بنا لیتا میں تجھ کو ہم سفر کچھ سال پہلے تکمگر اس بات سے لگتا تھا ڈر کچھ سال پہلے تکYawar Azeem (b. 1984)
  3. تمام رشتوں کو بے کدورت بنا دیا ہےہمیں محبت نے خوب صورت بنا دیا ہےYawar Azeem (b. 1984)
  4. تیور تمہارے دیکھ کر آدھا سخن کروںورنہ میں چاہتا ہوں زیادہ سخن کروںYawar Azeem (b. 1984)
  5. جنس دل لے کر بھرے بازار تک پہنچا نہیںایک تک پہنچا ہوں میں دو چار تک پہنچا نہیںYawar Azeem (b. 1984)
  6. خوشی کے دن ہوں تو اجلا لباس سب پہنیںاور ایک ہم کہ وہی جامۂ تعب پہنیںYawar Azeem (b. 1984)
  7. فضائے شہر کو وحشت اثر تسلیم کرتے ہیںدلوں میں چھپ کے بیٹھا ہے جو ڈر تسلیم کرتے ہیںYawar Azeem (b. 1984)
  8. مرے کاغذ پہ ہیں لفظوں کے تابندہ ستارےزمین شعر سے نکلے درخشندہ ستارےYawar Azeem (b. 1984)
  9. میں رفعتوں کی انوکھی مثال ہونے لگایہ آسماں مرے کاندھوں کی شال ہونے لگاYawar Azeem (b. 1984)
  10. ہر آدمی میں تعلق کی بھوک پیدا کرتو خود میں عادت حسن سلوک پیدا کرYawar Azeem (b. 1984)
  11. پھوٹ کر روؤں نہ کیوں میں خواب کی تعبیر پرخون کے دیکھے ہیں قطرے آج پھر زنجیر پرAadil Farhat (b. 1984)
  12. تیرے پیاسوں کو سزا دی گئی ہےتشنگی اور بڑھا دی گئی ہےAadil Farhat (b. 1984)
  13. خود اداسی میں تو اپنی یہ کمی رکھی ہےساتھ جب تک ہے وہ چہرے پہ ہنسی رکھی ہےAadil Farhat (b. 1984)
  14. سارے عالم کا یہی ارمان ہونا چاہئےتو نہیں تو یہ جہاں ویران ہونا چاہئےAadil Farhat (b. 1984)
  15. سچ ہوا خواب تو تعبیر نہیں کھینچ سکامیں ترے جسم پہ تحریر نہیں کھینچ سکاAadil Farhat (b. 1984)
  16. کبھی سکون کبھی ہم گھٹن کی نذر ہوئےہم ایسے لوگ تو اپنے ہی من کی نذر ہوئےAadil Farhat (b. 1984)
  17. کوئی کمال ہوا پھر نہ اس کمال کے بعدکہ ایک شخص نہ بھایا ترے وصال کے بعدAadil Farhat (b. 1984)
  18. میں جل گیا تھا جسے راستہ دکھاتے ہوئےاسے ترس نہیں آیا مجھے بجھاتے ہوئےAadil Farhat (b. 1984)
  19. تمہیں پتا ہے محبت کیا ہےنہیںTabassum Zia (b. 1984)
  20. دروازے کیا ہوتے ہیںکیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیںTabassum Zia (b. 1984)
  21. فن کے بت کدے میں داخل ہو کراپنے رنگوں میں ہاتھ گھولناTabassum Zia (b. 1984)
  22. کلن کی خود کلامیمیں بیاہ رچاؤں گیTabassum Zia (b. 1984)
  23. کوئی کہتا ہے خدا زمیں سے گیا نہیںمگر کیا وجہ ہے کہ شیطان بوڑھے نہیں ہوتےTabassum Zia (b. 1984)
  24. گرمیوں کے موسم میںلالٹین کی آگ سینکتے ہیںTabassum Zia (b. 1984)
  25. میرے دل میں اگتی پیار کی فصل کوجب لوگوں کی نفرت کے فضلے کی کھاد ملیTabassum Zia (b. 1984)
  26. میں تنہا تھاکل بھی اور آج بھیTabassum Zia (b. 1984)
  27. جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیںان دنوں گردش حالات میں آئے ہوئے ہیںZaeem Rasheed (b. 1984)
  28. دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھگزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھZaeem Rasheed (b. 1984)
  29. یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گیجو وہ ملا تو میں خرچ کر دوں گا ایک پل میںZaeem Rasheed (b. 1984)
  30. بے آباد گھروں میں ایسا ہوتا ہےدور کے دیس کو جانے والا کولہو کا ایک بیل بنا ہےZaeem Rasheed (b. 1984)
  31. ہوا کو جانے یہ کیا ہوا ہےوہ سر سے پاؤں تک آج کس سبز کپکپاہٹ میں مبتلا ہےZaeem Rasheed (b. 1984)
  32. بات ساحل کی رکھے ٹوٹا شکارا دیکھ لےپاس تو مجھدھار ہے کیوں کر کنارا دیکھ لےSaaieb S. M. Patil (b. 1984)
  33. پھر سے تیرا خیال آیا ہےدرد میں اک ابال آیا ہےSaaieb S. M. Patil (b. 1984)
  34. جان اس دل کی بچانے کے لیےیاد آ بس یاد آنے کے لیےSaaieb S. M. Patil (b. 1984)
  35. اب اگر اور چپ رہوں گا میںپھر یہ طے ہے کہ پھٹ پڑوں گا میںJahangeer nayab (b. 1985)
  36. اپنے حصار ذات میں الجھا ہوا ہوں میںیعنی کہ کائنات میں الجھا ہوا ہوں میںJahangeer nayab (b. 1985)
  37. اچھا ہوں یا برا ہوں مجھے کچھ نہیں پتانظروں میں تیرے کیا ہوں مجھے کچھ نہیں پتاJahangeer nayab (b. 1985)
  38. اس طرح کھو گیا ہوں میں اپنے وجود میںاب خود کو ڈھونڈتا ہوں میں اپنے وجود میںJahangeer nayab (b. 1985)
  39. باعث آسودگی ہے حشر سامانی مجھےراس آتی ہے بڑی مشکل سے آسانی مجھےJahangeer nayab (b. 1985)
  40. بیان حال مفصل نہیں ہوا اب تکجو مسئلہ تھا وہی حل نہیں ہوا اب تکJahangeer nayab (b. 1985)
  41. تماشہ اپنا سر رہ گزر بنایا جائےجو راہزن ہے اسے راہ بر بنایا جائےJahangeer nayab (b. 1985)
  42. جنون شوق یقیں ضابطے سے آئی ہےاڑان مجھ میں مرے حوصلے سے آئی ہےJahangeer nayab (b. 1985)
  43. حرف سے تاثیر لفظوں سے معنی لے گیاجاتے جاتے وہ مری جادو بیانی لے گیاJahangeer nayab (b. 1985)
  44. خود اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوںسمجھتے ہیں وہ میں ان سے خفا ہوںJahangeer nayab (b. 1985)
  45. دل سے نکال یاس کہ زندہ ہوں میں ابھیہوتا ہے کیوں اداس کہ زندہ ہوں میں ابھیJahangeer nayab (b. 1985)
  46. کہا ہے میں نے یہ کب ماہتاب مل جائےمجھے تو بس مری آنکھوں کا خواب مل جائےJahangeer nayab (b. 1985)
  47. کیوں ظلم ڈھا رہا ہوں میں اپنے وجود پرکیچڑ اچھالتا ہوں میں اپنے وجود پرJahangeer nayab (b. 1985)
  48. مرکز میں تھا سو دھیان میں رکھا گیا مجھےہر وقت امتحان میں رکھا گیا مجھےJahangeer nayab (b. 1985)
  49. مری بلا سے زمانہ خلاف ہو جائےمیں چاہتا ہوں ترا ذہن صاف ہو جائےJahangeer nayab (b. 1985)
  50. مشکل میں ڈالتا ہوں میں اپنے وجود کوآساں بنا رہا ہوں میں اپنے وجود کوJahangeer nayab (b. 1985)