کسی کے ذہن میں کیا ہے نظر نہیں آتا
Aalam Nizami (b. 1984)کسی کے ذہن میں کیا ہے نظر نہیں آتا
مزاج پڑھنے کا سب کو ہنر نہیں آتا
ہر ایک شخص مسافر ہے ایسی منزل کا
جہاں سے کوئی کبھی لوٹ کر نہیں آتا
ہزاروں فن پہ یہاں دسترس ہے لوگوں کو
ہمیں سلیقے سے کوئی ہنر نہیں آتا
زبان و دل کی طہارت کا جائزہ لے لیں
جنہیں ہے شکوہ دعا میں اثر نہیں آتا
جسے سمجھتے ہیں آسان ہم بہت عالمؔ
ہمیں سمجھ میں وہی عمر بھر نہیں آتا