تنہا کب ہوں میرے سنگ پرندے ہیں

Yasir Raza Asif (b. 1984)

تنہا کب ہوں میرے سنگ پرندے ہیں

سپنے بھی تو رنگا رنگ پرندے ہیں

مجھ کو بیٹھا دیکھ کے جملے کستے تھے

میرے اڑنے پر اب دنگ پرندے ہیں

پھر سے کعبہ اک دشمن کی زد پر ہے

پھر لشکر سے محو جنگ پرندے ہیں

تیرے ساتھ ہیں شہر کی پختہ دیواریں

میں سادھو ہوں میرے سنگ پرندے ہیں

تیرے لہجے کی تصویری شکلیں ہیں

جتنے بھی اڑتے خوش رنگ پرندے ہیں

پنجروں کی بہتات گواہی دیتی ہے

انسانوں کے ہاتھوں تنگ پرندے ہیں

سب کچھ ہے بس تیری ایک کمی سی ہے

بادل پانی دھوپ پتنگ پرندے ہیں

بے خود سی وہ ہر سو اڑتی پھرتی ہے

اس کے آصفؔ سارے انگ پرندے ہیں