ایسی ٹھہری ہے رت خزاؤں کی

Yasir Raza Asif (b. 1984)

ایسی ٹھہری ہے رت خزاؤں کی

ہم کو حسرت رہی ہے چھاؤں کی

دل کی دنیا اجاڑ کر انساں

کھوج کرتا پھرے خلاؤں کی

بام پر دیکھ کر پرندوں کو

یاد آئی ہے پھر سے گاؤں کی

گولیوں کی صدائیں سنتے ہی

دھڑکنیں تھم گئی ہیں ماؤں کی

کس کو فرصت کہ داستاں لکھے

سسکیاں لے رہی ہواؤں کی

آیت وصل دم کرو اس پر

لے کے مٹی کسی کے پاؤں کی

دل کے گنبد میں قید ہے آصفؔ

گونج بھولی ہوئی صداؤں کی