کچھ سزائیں اور بھی ہیں تازیانوں سے پرے

Yasir Raza Asif (b. 1984)

کچھ سزائیں اور بھی ہیں تازیانوں سے پرے

اک اسیری اور بھی ہے قید خانوں سے پرے

خون جن کا دوڑتا ہے سب مشینوں میں یہاں

وہ سسکتے لوگ ہیں ان کارخانوں سے پرے

جس کے دم سے تھیں ہمارے شہر کی سب رونقیں

وہ بھی جا کے بس گیا ہے دو جہانوں سے پرے

والہانہ رقص کرتی جا رہی تھی ساتھ ساتھ

ڈوبتے سورج کی لالی ساربانوں سے پرے

کچھ تو لہروں سے ہماری چل رہی تھی دشمنی

کچھ ہوا بھی سازشی تھی بادبانوں سے پرے

اک خلا نے مستقل مجھ میں ٹھکانہ کر لیا

اک خلا پھیلا ہوا ہے آسمانوں سے پرے

مجھ سے وہ ملتا ہے آصفؔ آدمی کے بھیس میں

اس کا مجھ سے رابطہ ہے آستانوں سے پرے