دھڑکنوں کی سب کہانی ختم شد

Yasir Raza Asif (b. 1984)

دھڑکنوں کی سب کہانی ختم شد

میری آنکھوں کا بھی پانی ختم شد

مے نئی لاؤ دکان ہجر سے

جو پڑی تھی کچھ پرانی ختم شد

یہ رہی وہ جھیل جس کی کھوج تھی

پنچھیو نقل مکانی ختم شد

برف نے سر پر بسیرا کر لیا

اب جوانی کی کہانی ختم شد

شہر دل کی رونقیں سب کھو گئیں

ہر طرح کی شادمانی ختم شد

انگلیوں کے بولنے سے یہ ہوا

سب پیام منہ زبانی ختم شد

چل کے آصفؔ پوچھتے ہیں وقت سے

کب یہ ہوگی رائیگانی ختم شد