نت نئے ظلم جھیلتا ہوں میں
Yasir Raza Asif (b. 1984)نت نئے ظلم جھیلتا ہوں میں
جرم یہ ہے کہ سوچتا ہوں میں
مجھ کو صحرا نشیں رہنے دو
آنے والوں کا راستہ ہوں میں
آئنہ رکھ کے سامنے اکثر
تیری آنکھوں میں جھانکتا ہوں میں
مجھ کو مجذوب سب سمجھتے ہیں
خود کو تھوڑا سا جانتا ہوں میں
تجھ سے ملنے کی کیا کروں کوشش
اب تو خود سے بھی بھاگتا ہوں میں
پہلے چپ سے تمہیں شکایت تھی
اب یہ کہتے ہو بولتا ہوں میں
اس طرح کون تجھ کو دیکھے گا
جس طرح تجھ کو دیکھتا ہوں میں
میرے لہجے کے درد کو سمجھو
تجھ کو جانے سے روکتا ہوں میں
اب تو آصفؔ گئے زمانوں سے
اپنے بارے میں پوچھتا ہوں میں