رسی تو جل گئی مگر اینٹھن نہیں گئی
Chandrashekhar Pandey Shams (b. 1984)رسی تو جل گئی مگر اینٹھن نہیں گئی
چاہت تمہاری یوں دم کشتن نہیں گئی
تم چاہتے نہیں تھے ہمیں پھر یہ کیوں ہوا
اب بھی تمہاری آنکھوں کی الجھن نہیں گئی
کروٹ بدل کے کاٹی تھی ہر شب ترے بغیر
عادت وہ اب بھی چھوڑ کے مدفن نہیں گئی
ساری خدائی ویسے لگی تو رہی مگر
اس دل سے تیری یاد بھی دشمن نہیں گئی
اک بت کے عشق میں تو کرے ہے خدا خدا
اے شمسؔ تیری ذات برہمن نہیں گئی