سنبھل سنبھل کے چلو گے تو فائدہ ہوگا
Yasir Raza Asif (b. 1984)سنبھل سنبھل کے چلو گے تو فائدہ ہوگا
بڑوں کی بات سنو گے تو فائدہ ہوگا
یہ پل پرندے نہیں ہیں کہ لوٹ آئیں گے
سمے کی قدر کرو گے تو فائدہ ہوگا
ہوا کا ہاتھ تمہیں راستہ دکھائے گا
ہوا کے سنگ چلو گے تو فائدہ ہوگا
نظر پھر آئیں گی تم کو کئی چھپی چیزیں
چراغ بن کے جلو گے تو فائدہ ہوگا
نئے خیال میں دھڑکن سمو کے لایا ہوں
مرا جو شعر پڑھو گے تو فائدہ ہوگا
گئے دنوں کے کئی راز تم پہ کھولے گا
شجر کے پاس رہو گے تو فائدہ ہوگا
عمل کا رد عمل ہر عمل پہ لاگو ہے
کسی کا ساتھ بھی دو گے تو فائدہ ہوگا