گھر کے بڑے بوڑھوں کو یہی کہتے سنا ہے
Yasir Raza Asif (b. 1984)گھر کے بڑے بوڑھوں کو یہی کہتے سنا ہے
جھک جھک کے جو ملتا ہے وہی قد میں بڑا ہے
وہ شخص ہوا کے کسی جھونکے کی طرح تھا
اب حبس بڑھا ہے تو یہ احساس ہوا ہے
لفظوں کے لبادے میں چھپی بات کو سمجھو
کب ہم نے تری ذات سے انکار کیا ہے
اک باب کے کھلنے سے کئی باب ہیں کھلتے
یہ علم کا نکتہ مجھے اک در سے ملا ہے
ہر بات کے پردے میں کوئی بات چھپی ہے
ہم نے ترے تیور سے یہ پہچان لیا ہے
شاید کہ کوئی ربط کی صورت نکل آئے
بے ربط عبارت کو کئی بار پڑھا ہے
اک خوف مسلط ہے سبھی باغ پہ آصفؔ
پھولوں نے بھی خوشبو کو یہاں قید کیا ہے