Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پاؤں کسی شور میں نہ شر میں کھلےنعرۂ زنجیر کی زبر میں کھلےYasir Iqbal (b. 1983)
  2. تم ٹہنیوں کی پھلجھڑیوں سے جشن شاہ بلوط مناناشہزادے کے شگوفے کو اک شاخچۂ مضبوط بتاناYasir Iqbal (b. 1983)
  3. رکا سا تھا کوئی منظر مگر ٹھہرا نہیں تھالرزتی یاد کا آنسو تھا اور بہتا نہیں تھاYasir Iqbal (b. 1983)
  4. شام کی شاخ شکستہ برقرار نغمہ ہےرنگ سینچا یا کسی نے سر بکھیرا چار سوYasir Iqbal (b. 1983)
  5. غضب ہیں پیٹتے جھلاتے پیڑوں میں جو یہ لہراتی گاتی ٹہنیاں ہیںسراسر یہ جناب جھنڈ کی تنکا سرائی ہے ہم اچھی ٹہنیاں ہیںYasir Iqbal (b. 1983)
  6. مستقبل کی آنکھ پہن کے درست اندازہ روئے تھےباسی شہر پہ رونے والے بالکل تازہ روئے تھےYasir Iqbal (b. 1983)
  7. وحشت کی ماری آنکھوں نے دل کے شہر کو پرخوں دیکھاشیشۂ خواب سے یوں پتھرائیں کہ دیر تلک پھر گردوں دیکھاYasir Iqbal (b. 1983)
  8. خزاں کی رت میں یہ مشغلہ تھامیں بکھرے پتے سمیٹتا تھاEhtisham Ali (b. 1983)
  9. زمیں پہ چاند کا پرتو ذرا سا سہما تھاخزاں نے شاخ سے جب پہلا پھول توڑا تھاEhtisham Ali (b. 1983)
  10. تمہم دونوں کی مشترکہ محبت تھےEhtisham Ali (b. 1983)
  11. ساری رات کا جاگا تھا میںاور برکھا کی بھیگی صبح میںEhtisham Ali (b. 1983)
  12. شہر خالی کروا لیا جاتا ہےاور وبا کے دنوں میں محبتEhtisham Ali (b. 1983)
  13. حویلی کی دیواروں پہکائی چڑھ آئیEhtisham Ali (b. 1983)
  14. سرد ہوا دروازے پر دستک دیتی ہےاور چاپ کہیں دورEhtisham Ali (b. 1983)
  15. ہمآخری بار کسیEhtisham Ali (b. 1983)
  16. خود کو دنیا میں جھونکنا ہے مجھےاور پھر خود میں لوٹنا ہے مجھےRaaz Dehalvi (b. 1983)
  17. ذرا سا بے وفا سا ہو گیا ہوںتری صحبت کی یہ تاثیر ہے کیاRaaz Dehalvi (b. 1983)
  18. سوکھا سوکھا دریا کا دل ہوتا ہےپیاس بجھانا کتنا مشکل ہوتا ہےRaaz Dehalvi (b. 1983)
  19. کچھ ایسا بھی نہیں میرا اکیلے دل نہیں لگتاکوئی جب ساتھ ہوتا ہے سفر مشکل نہیں لگتاRaaz Dehalvi (b. 1983)
  20. مسائل یہ بھی حل کر دیکھتا ہوںکبھی خود سے نکل کر دیکھتا ہوںRaaz Dehalvi (b. 1983)
  21. نئے چراغ چراغاں تو خیر کیا دیں گےبہت ہوا تو کہیں آگ ہی لگا دیں گےRaaz Dehalvi (b. 1983)
  22. آنسوؤں سسکیوں میں آہوں میںخواب دفنا دئے نگاہوں میںTahir Baloch (b. 1983)
  23. ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میںاور پھر اتنے اشک بہے کہ جتنا پانی دریا میںTahir Baloch (b. 1983)
  24. قبیلہ عشق کا میرے خلاف ہو رہا تھاروایتوں سے بڑا انحراف ہو رہا تھاTahir Baloch (b. 1983)
  25. یہ دل بھی ڈوب گیا سیڑھیاں اترتے ہوئےسنی نہ کوئی صدا سیڑھیاں اترتے ہوئےTahir Baloch (b. 1983)
  26. آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےدنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےAalam Nizami (b. 1984)
  27. اپنی خودی کو تم سر بازار بیچ کرزندہ ہو کیسے دولت کردار بیچ کرAalam Nizami (b. 1984)
  28. ادب کو اتنا گرا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاسخن کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاAalam Nizami (b. 1984)
  29. اس سے پہلے مری خواہش مجھے رسوا کر دےعزت نفس کو خالق مرے زندہ کر دےAalam Nizami (b. 1984)
  30. اس لئے تو بجھا نہیں ہوں میںبجھنے والا دیا نہیں ہوں میںAalam Nizami (b. 1984)
  31. ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھےجو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھےAalam Nizami (b. 1984)
  32. اے اندھیرے روشنی کی زد میں آنا چھوڑ دےآفتاب وقت پر انگلی اٹھانا چھوڑ دےAalam Nizami (b. 1984)
  33. بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیانمک کو زخم کا مرہم کریں کیاAalam Nizami (b. 1984)
  34. بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گازندگی بھر میں تجھے زخم جدائی دوں گاAalam Nizami (b. 1984)
  35. ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گامری وفا کا نتیجہ ضرور نکلے گاAalam Nizami (b. 1984)
  36. تمام فتنوں سے خود کو بچا لیا میں نےمنافقین سے پیچھا چھڑا لیا میں نےAalam Nizami (b. 1984)
  37. جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتیدوست روز ملتے ہیں دوستی نہیں ملتیAalam Nizami (b. 1984)
  38. جس طرح بچے بزرگوں کے چرن چومتے ہیںہم محبت سے محبت کا بدن چومتے ہیںAalam Nizami (b. 1984)
  39. جس کی خاطر سارا زمانہ چھوڑ دیااس نے میرا فون اٹھانا چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
  40. چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہےیاد ایسے میں تری دل میں چلی آئی ہےAalam Nizami (b. 1984)
  41. چاہتا جو بھی ہے وہ کہہ کے گزر جاتا ہےدل حساس اس احساس سے مر جاتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
  42. حسین خواب دکھایا دکھا کے چھوڑ دیاکسی نے اپنا بنایا بنا کے چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
  43. خانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گاپیار کی شمع جلاؤ گے تو یاد آؤں گاAalam Nizami (b. 1984)
  44. خودداریوں کی حد سے نکلنا پڑا مجھےماحول کی چتاؤں میں جلنا پڑا مجھےAalam Nizami (b. 1984)
  45. دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتافنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتاAalam Nizami (b. 1984)
  46. دل کیا دست ستم گر کے حوالے ہم نےآئنہ کر دیا پتھر کے حوالے ہم نےAalam Nizami (b. 1984)
  47. راکھ ماضی کی کریدو گے تو کیا پاؤ گےکوئی چنگاری نکل آئی تو جل جاؤ گےAalam Nizami (b. 1984)
  48. رنگ ایثار کے چہرے کا نکھرتا کیسےزخم احباب نہ دیتے تو سنورتا کیسےAalam Nizami (b. 1984)
  49. زمانے پر عیاں میرا ہنر ہونے نہیں دیتانہ جانے کیوں مجھے وہ معتبر ہونے نہیں دیتاAalam Nizami (b. 1984)
  50. سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتیمحسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتیAalam Nizami (b. 1984)