Poetry
Poet
Meter
- پاؤں کسی شور میں نہ شر میں کھلےنعرۂ زنجیر کی زبر میں کھلےYasir Iqbal (b. 1983)
- تم ٹہنیوں کی پھلجھڑیوں سے جشن شاہ بلوط مناناشہزادے کے شگوفے کو اک شاخچۂ مضبوط بتاناYasir Iqbal (b. 1983)
- رکا سا تھا کوئی منظر مگر ٹھہرا نہیں تھالرزتی یاد کا آنسو تھا اور بہتا نہیں تھاYasir Iqbal (b. 1983)
- شام کی شاخ شکستہ برقرار نغمہ ہےرنگ سینچا یا کسی نے سر بکھیرا چار سوYasir Iqbal (b. 1983)
- غضب ہیں پیٹتے جھلاتے پیڑوں میں جو یہ لہراتی گاتی ٹہنیاں ہیںسراسر یہ جناب جھنڈ کی تنکا سرائی ہے ہم اچھی ٹہنیاں ہیںYasir Iqbal (b. 1983)
- مستقبل کی آنکھ پہن کے درست اندازہ روئے تھےباسی شہر پہ رونے والے بالکل تازہ روئے تھےYasir Iqbal (b. 1983)
- وحشت کی ماری آنکھوں نے دل کے شہر کو پرخوں دیکھاشیشۂ خواب سے یوں پتھرائیں کہ دیر تلک پھر گردوں دیکھاYasir Iqbal (b. 1983)
- خزاں کی رت میں یہ مشغلہ تھامیں بکھرے پتے سمیٹتا تھاEhtisham Ali (b. 1983)
- زمیں پہ چاند کا پرتو ذرا سا سہما تھاخزاں نے شاخ سے جب پہلا پھول توڑا تھاEhtisham Ali (b. 1983)
- تمہم دونوں کی مشترکہ محبت تھےEhtisham Ali (b. 1983)
- ساری رات کا جاگا تھا میںاور برکھا کی بھیگی صبح میںEhtisham Ali (b. 1983)
- شہر خالی کروا لیا جاتا ہےاور وبا کے دنوں میں محبتEhtisham Ali (b. 1983)
- حویلی کی دیواروں پہکائی چڑھ آئیEhtisham Ali (b. 1983)
- سرد ہوا دروازے پر دستک دیتی ہےاور چاپ کہیں دورEhtisham Ali (b. 1983)
- ہمآخری بار کسیEhtisham Ali (b. 1983)
- خود کو دنیا میں جھونکنا ہے مجھےاور پھر خود میں لوٹنا ہے مجھےRaaz Dehalvi (b. 1983)
- ذرا سا بے وفا سا ہو گیا ہوںتری صحبت کی یہ تاثیر ہے کیاRaaz Dehalvi (b. 1983)
- سوکھا سوکھا دریا کا دل ہوتا ہےپیاس بجھانا کتنا مشکل ہوتا ہےRaaz Dehalvi (b. 1983)
- کچھ ایسا بھی نہیں میرا اکیلے دل نہیں لگتاکوئی جب ساتھ ہوتا ہے سفر مشکل نہیں لگتاRaaz Dehalvi (b. 1983)
- مسائل یہ بھی حل کر دیکھتا ہوںکبھی خود سے نکل کر دیکھتا ہوںRaaz Dehalvi (b. 1983)
- نئے چراغ چراغاں تو خیر کیا دیں گےبہت ہوا تو کہیں آگ ہی لگا دیں گےRaaz Dehalvi (b. 1983)
- آنسوؤں سسکیوں میں آہوں میںخواب دفنا دئے نگاہوں میںTahir Baloch (b. 1983)
- ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میںاور پھر اتنے اشک بہے کہ جتنا پانی دریا میںTahir Baloch (b. 1983)
- قبیلہ عشق کا میرے خلاف ہو رہا تھاروایتوں سے بڑا انحراف ہو رہا تھاTahir Baloch (b. 1983)
- یہ دل بھی ڈوب گیا سیڑھیاں اترتے ہوئےسنی نہ کوئی صدا سیڑھیاں اترتے ہوئےTahir Baloch (b. 1983)
- آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےدنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہےAalam Nizami (b. 1984)
- اپنی خودی کو تم سر بازار بیچ کرزندہ ہو کیسے دولت کردار بیچ کرAalam Nizami (b. 1984)
- ادب کو اتنا گرا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاسخن کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گاAalam Nizami (b. 1984)
- اس سے پہلے مری خواہش مجھے رسوا کر دےعزت نفس کو خالق مرے زندہ کر دےAalam Nizami (b. 1984)
- اس لئے تو بجھا نہیں ہوں میںبجھنے والا دیا نہیں ہوں میںAalam Nizami (b. 1984)
- ایسا لگتا ہے وہ نادان سمجھتے ہیں مجھےجو بھی تفریح کا سامان سمجھتے ہیں مجھےAalam Nizami (b. 1984)
- اے اندھیرے روشنی کی زد میں آنا چھوڑ دےآفتاب وقت پر انگلی اٹھانا چھوڑ دےAalam Nizami (b. 1984)
- بیاں غیروں سے اپنا غم کریں کیانمک کو زخم کا مرہم کریں کیاAalam Nizami (b. 1984)
- بے وفا اب نہ محبت کی دہائی دوں گازندگی بھر میں تجھے زخم جدائی دوں گاAalam Nizami (b. 1984)
- ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گامری وفا کا نتیجہ ضرور نکلے گاAalam Nizami (b. 1984)
- تمام فتنوں سے خود کو بچا لیا میں نےمنافقین سے پیچھا چھڑا لیا میں نےAalam Nizami (b. 1984)
- جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتیدوست روز ملتے ہیں دوستی نہیں ملتیAalam Nizami (b. 1984)
- جس طرح بچے بزرگوں کے چرن چومتے ہیںہم محبت سے محبت کا بدن چومتے ہیںAalam Nizami (b. 1984)
- جس کی خاطر سارا زمانہ چھوڑ دیااس نے میرا فون اٹھانا چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
- چاندنی رات ہے میں ہوں مری تنہائی ہےیاد ایسے میں تری دل میں چلی آئی ہےAalam Nizami (b. 1984)
- چاہتا جو بھی ہے وہ کہہ کے گزر جاتا ہےدل حساس اس احساس سے مر جاتا ہےAalam Nizami (b. 1984)
- حسین خواب دکھایا دکھا کے چھوڑ دیاکسی نے اپنا بنایا بنا کے چھوڑ دیاAalam Nizami (b. 1984)
- خانۂ دل کو سجاؤ گے تو یاد آؤں گاپیار کی شمع جلاؤ گے تو یاد آؤں گاAalam Nizami (b. 1984)
- خودداریوں کی حد سے نکلنا پڑا مجھےماحول کی چتاؤں میں جلنا پڑا مجھےAalam Nizami (b. 1984)
- دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتافنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتاAalam Nizami (b. 1984)
- دل کیا دست ستم گر کے حوالے ہم نےآئنہ کر دیا پتھر کے حوالے ہم نےAalam Nizami (b. 1984)
- راکھ ماضی کی کریدو گے تو کیا پاؤ گےکوئی چنگاری نکل آئی تو جل جاؤ گےAalam Nizami (b. 1984)
- رنگ ایثار کے چہرے کا نکھرتا کیسےزخم احباب نہ دیتے تو سنورتا کیسےAalam Nizami (b. 1984)
- زمانے پر عیاں میرا ہنر ہونے نہیں دیتانہ جانے کیوں مجھے وہ معتبر ہونے نہیں دیتاAalam Nizami (b. 1984)
- سچائی کبھی اپنی صفائی نہیں دیتیمحسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتیAalam Nizami (b. 1984)