Poetry
Poet
Meter
- بد بختی میں سب بے مولہیرے چن یا موتی رولParvez Anjum
- پوجنے والے سبھی لوگ ہیں فرزانے کوپوچھتا کون ہے اس شہر میں دیوانے کوParvez Anjum
- تری جفاؤں کا لب لباب لکھا ہےجو میرے چہرے پہ دل نے حساب لکھا ہےParvez Anjum
- حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئےاشک آنکھوں میں جو آیا تو برا مان گئےParvez Anjum
- سارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیاجس دل کو تو نے دیکھ لیا دل بنا دیاParvez Anjum
- سب ہیں محتاج فقط ایک خدا دیتا ہےمانگ کے دیکھ وہ دامن سے سوا دیتا ہےParvez Anjum
- کر دعائیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہےمحنتی ہاتھ کے حصے میں ثمر ہوتا ہےParvez Anjum
- کس چمن پہ گرنا ہے بجلیاں سمجھتی ہیںشاخ گل کی طاقت کو آندھیاں سمجھتی ہیںParvez Anjum
- ہنستا ہے بار بار مرا یار دیکھ کرمجھ کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کرParvez Anjum
- اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میںکچھ روز تو رہنا ہے اسی راہ گزر میںQaisar Abbas
- اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگےواپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگےQaisar Abbas
- تم وقت سحر روزن دیوار میں دیکھولالی سی کہیں صبح کے آثار میں دیکھوQaisar Abbas
- خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہوگاخوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہوگاQaisar Abbas
- شہر کی رسم ہے پرانی وہیسازشیں تازہ ہیں کہانی وہیQaisar Abbas
- صبح دم آجمری نیند بھری آنکھQaisar Abbas
- مرے گھر کی دیوار پرعہد رفتہ کےQaisar Abbas
- ہماری سب لکیریںدائروں میں گھومتی ہیںQaisar Abbas
- آسمانوں سے اتریاجنبی مخلوقQaisar Abbas
- کانپتے ہاتھ مرےایک دعا کو اٹھےQaisar Abbas
- آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیاہجر کی شام کو سحر نہ کیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہومیں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہوRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیںمری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہاراریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہاراRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہےسنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہےRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیاآزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیںمظلوم ہم بتوں کے جفا و ستم کے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہواہر ورق خورشید کے مانند نور افشاں ہواRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- ہر زباں پر ہے گفتگو تیریہے ہر اک دل میں آرزو تیریRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہےخواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہےRafat Shameem
- اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگابستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگاRafat Shameem
- اب طبیعت کہاں روانی میںکشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میںRafat Shameem
- اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نےراز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نےRafat Shameem
- ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیںجس کے باہر انا کے پہرے ہیںRafat Shameem
- ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہےنقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہےRafat Shameem
- جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہےکیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہےRafat Shameem
- خود کو جب سے جان گئے ہمدنیا کو پہچان گئے ہمRafat Shameem
- در کسی کا کھلا نہیں لگتاشہر یہ آشنا نہیں لگتاRafat Shameem
- کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتامیں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتاRafat Shameem
- اچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کاباعث وہی رہیں مرے جی کے وبال کاSaa’in Alig
- اس کو خلوت کا میری پاس نہیںکیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیںSaa’in Alig
- اے رب کائنات مجھے لے پناہ میںبہتا ہی جا رہا ہوں خلیج گناہ میںSaa’in Alig
- بچھڑ کر اب ذرا آزار کھینچوتم اپنے دل میں اک دیوار کھینچوSaa’in Alig
- دل دکھاؤ نہ بارہا جاناںمنہ چھپاؤ نہ بارہا جاناںSaa’in Alig
- دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہےاب تو میرے پاس آ کر پوچھ لے کیا بات ہےSaa’in Alig
- شب فراق میں بھی وصل سا سرور رہارہا نہ پاس مرے وہ نہ مجھ سے دور رہاSaa’in Alig
- کر کر کے قید مجھ کو وہ صیاد رہ گیامیں تھا اسیر رنج سو آزاد رہ گیاSaa’in Alig
- لب پہ آئی نہ میرے جی کی باتبات جب کی تو کی اسی کی باتSaa’in Alig
- ہوش تھا یا کوئی خمار رہادل کہ بیتاب و بے قرار رہاSaa’in Alig
- اس طرح دنیا کے دل میں گھر بنااپنی طرز گفتگو بہتر بناSaadat Aabidi