Poetry

Poet
Meter
  1. بد بختی میں سب بے مولہیرے چن یا موتی رولParvez Anjum
  2. پوجنے والے سبھی لوگ ہیں فرزانے کوپوچھتا کون ہے اس شہر میں دیوانے کوParvez Anjum
  3. تری جفاؤں کا لب لباب لکھا ہےجو میرے چہرے پہ دل نے حساب لکھا ہےParvez Anjum
  4. حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئےاشک آنکھوں میں جو آیا تو برا مان گئےParvez Anjum
  5. سارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیاجس دل کو تو نے دیکھ لیا دل بنا دیاParvez Anjum
  6. سب ہیں محتاج فقط ایک خدا دیتا ہےمانگ کے دیکھ وہ دامن سے سوا دیتا ہےParvez Anjum
  7. کر دعائیں کہ دعاؤں میں اثر ہوتا ہےمحنتی ہاتھ کے حصے میں ثمر ہوتا ہےParvez Anjum
  8. کس چمن پہ گرنا ہے بجلیاں سمجھتی ہیںشاخ گل کی طاقت کو آندھیاں سمجھتی ہیںParvez Anjum
  9. ہنستا ہے بار بار مرا یار دیکھ کرمجھ کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کرParvez Anjum
  10. اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میںکچھ روز تو رہنا ہے اسی راہ گزر میںQaisar Abbas
  11. اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگےواپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگےQaisar Abbas
  12. تم وقت سحر روزن دیوار میں دیکھولالی سی کہیں صبح کے آثار میں دیکھوQaisar Abbas
  13. خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہوگاخوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہوگاQaisar Abbas
  14. شہر کی رسم ہے پرانی وہیسازشیں تازہ ہیں کہانی وہیQaisar Abbas
  15. صبح دم آجمری نیند بھری آنکھQaisar Abbas
  16. مرے گھر کی دیوار پرعہد رفتہ کےQaisar Abbas
  17. ہماری سب لکیریںدائروں میں گھومتی ہیںQaisar Abbas
  18. آسمانوں سے اتریاجنبی مخلوقQaisar Abbas
  19. کانپتے ہاتھ مرےایک دعا کو اٹھےQaisar Abbas
  20. آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  21. آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیاہجر کی شام کو سحر نہ کیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  22. اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہومیں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہوRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  23. تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیںمری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  24. خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہاراریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہاراRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  25. دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہےسنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہےRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  26. سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیاآزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  27. طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیںمظلوم ہم بتوں کے جفا و ستم کے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  28. نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہواہر ورق خورشید کے مانند نور افشاں ہواRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  29. ہر زباں پر ہے گفتگو تیریہے ہر اک دل میں آرزو تیریRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
  30. آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہےخواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہےRafat Shameem
  31. اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگابستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگاRafat Shameem
  32. اب طبیعت کہاں روانی میںکشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میںRafat Shameem
  33. اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نےراز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نےRafat Shameem
  34. ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیںجس کے باہر انا کے پہرے ہیںRafat Shameem
  35. ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہےنقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہےRafat Shameem
  36. جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہےکیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہےRafat Shameem
  37. خود کو جب سے جان گئے ہمدنیا کو پہچان گئے ہمRafat Shameem
  38. در کسی کا کھلا نہیں لگتاشہر یہ آشنا نہیں لگتاRafat Shameem
  39. کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتامیں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتاRafat Shameem
  40. اچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کاباعث وہی رہیں مرے جی کے وبال کاSaa’in Alig
  41. اس کو خلوت کا میری پاس نہیںکیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیںSaa’in Alig
  42. اے رب کائنات مجھے لے پناہ میںبہتا ہی جا رہا ہوں خلیج گناہ میںSaa’in Alig
  43. بچھڑ کر اب ذرا آزار کھینچوتم اپنے دل میں اک دیوار کھینچوSaa’in Alig
  44. دل دکھاؤ نہ بارہا جاناںمنہ چھپاؤ نہ بارہا جاناںSaa’in Alig
  45. دیکھ اب تو میرا دشمن بھی کہے کیا بات ہےاب تو میرے پاس آ کر پوچھ لے کیا بات ہےSaa’in Alig
  46. شب فراق میں بھی وصل سا سرور رہارہا نہ پاس مرے وہ نہ مجھ سے دور رہاSaa’in Alig
  47. کر کر کے قید مجھ کو وہ صیاد رہ گیامیں تھا اسیر رنج سو آزاد رہ گیاSaa’in Alig
  48. لب پہ آئی نہ میرے جی کی باتبات جب کی تو کی اسی کی باتSaa’in Alig
  49. ہوش تھا یا کوئی خمار رہادل کہ بیتاب و بے قرار رہاSaa’in Alig
  50. اس طرح دنیا کے دل میں گھر بنااپنی طرز گفتگو بہتر بناSaadat Aabidi