کر کر کے قید مجھ کو وہ صیاد رہ گیا

Saa’in Alig

کر کر کے قید مجھ کو وہ صیاد رہ گیا

میں تھا اسیر رنج سو آزاد رہ گیا

سینے سے ایک تیر تو نکلا ہے جس طرح

اس نے مگر کیا تھا جو ارشاد رہ گیا

میں نے کہا کہ وزن کو جانچو ذرا بہ‌ غور

کہنے لگا کہ جی مرے استاد رہ گیا

اپنی خرد پہ ہوتا ہے مجھ کو ملال یوں

جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا

صابر ہو کوئی مجھ سا تو مجھ کو دکھاؤ بھی

پہلو میں میرے تیشۂ فرہاد رہ گیا

صائنؔ دل خراب کی باتوں میں آن کے

صحرا میں جا ملی نہ گھر آباد رہ گیا