سب ہیں محتاج فقط ایک خدا دیتا ہے
Parvez Anjumسب ہیں محتاج فقط ایک خدا دیتا ہے
مانگ کے دیکھ وہ دامن سے سوا دیتا ہے
دل تو پھر دل ہے وہ پتھر کو جلا دیتا ہے
جس کو چھو دیتا ہے آئینہ بنا دیتا ہے
میں کہ ویرانے میں اک پھول کھلانے سے رہا
وہ کہ صحرا کو بھی گلزار بنا دیتا ہے
دل وہ پاگل ہے کہ روتا ہے تو روتے روتے
قطرۂ اشک کا انبار لگا دیتا ہے
پھونس کا گھر ہے مرے گاؤں کے اندر سب کا
بجھتے شعلوں کو یہاں کون ہوا دیتا ہے
مجھ کو انگور کی بیٹی سے وہ حاصل نہ ہوا
تیری آنکھوں کا تصور جو نشہ دیتا ہے
سر ہتھیلی پہ لئے قصد سفر لازم ہے
حوصلہ سوئے یقیں بڑھ کے صدا دیتا ہے
تھم گئی نبض مری سانس کی لے لوٹ گئی
چارہ گر چھوڑ دے بے کار دوا دیتا ہے
راگ دیپک میں سناتا ہے غزل جب انجمؔ
اپنی آواز سے وہ آگ لگا دیتا ہے