حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئے

Parvez Anjum

حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئے

اشک آنکھوں میں جو آیا تو برا مان گئے

وعدہ کرکے جو نہ آئے تو کوئی بات نہیں

بے وفا کہہ کے بلایا تو برا مان گئے

جس کے ہر لفظ میں ہر بند میں نام ان کا تھا

ہم نے وہ گیت سنایا تو برا مان گئے

وہ جو غیروں سے ہم آغوش ہوا کرتے ہیں

ان کو پہلو میں بٹھایا تو برا مان گئے

آپ نے جشن چراغوں کا منایا لیکن

اک دیا ہم نے جلایا تو برا مان گئے

جام پہ جام اٹھاتے رہے پینے والے

ہم نے جو ہاتھ بڑھایا تو برا مان گئے

ناز پہ ناز اٹھایا تو بڑے اچھے تھے

نیند سے ان کو جگایا تو برا مان گئے

عیب ہر شخص میں جو ڈھونڈ رہے تھے انجمؔ

آئنہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے