سارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیا
Parvez Anjumسارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیا
جس دل کو تو نے دیکھ لیا دل بنا دیا
شاہان وقت کا یہ کرشمہ تو دیکھیے
مظلوم و بے گناہ کو قاتل بنا دیا
اک بیکس و غریب کو کل رات شہر نے
پتھر سے مار مار کے گھائل بنا دیا
یہ تو امیر وقت کا ادنیٰ کمال ہے
جاہل کو عالموں کے مقابل بنا دیا
کچھ بھی عطا ہو حسن کا صدقہ اے جان جاں
انجمؔ کو تیرے عشق نے سائل بنا دیا