سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیا
Radhe Shiyam Rastogi Ahqarسودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیا
آزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیا
مجلس میں جس طرف تری ترچھی نظر پڑی
اک تیر تھا کہ توڑ کے صف پار ہو گیا
سچ ہے یہ حرص کرتی ہے انسان کو خراب
غم کھایا اس قدر کہ میں بیمار ہو گیا
دل کو قرار ہے نہ تو جاں کو قرار ہے
یہ عشق ہے الٰہی کہ آزار ہو گیا
انبائے جنس سے جو اٹھائیں اذیتیں
صورت سے آدمی کی میں بیزار ہو گیا
سیر چمن کو یار جو آیا تو دیکھنا
آنکھوں میں عندلیب کے گل خار ہو گیا
احقرؔ گلہ رہا نہ عداوت کا غیر کی
جب یار قتل کرنے پہ تیار ہو گیا