جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہے
Rafat Shameemجب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہے
کیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہے
شامل یہاں اثبات میں پہلوئے نفی ہے
کامل کسی آغاز کا انجام نہیں ہے
وہ دھوپ ہے آنکھوں میں کہ جل جاتی ہے ہر شام
منظر ہے دھواں کوئی لب بام نہیں ہے
کیا طرز رفاقت ہے کہ ملتے ہیں بصد شوق
پر ذکر شناسائی و پیغام نہیں ہے
تنگ ظرفیٔ ہیت جسے کہتے ہیں غزل کی
آفاق معانی ہے وہ ابہام نہیں ہے