پوجنے والے سبھی لوگ ہیں فرزانے کو

Parvez Anjum

پوجنے والے سبھی لوگ ہیں فرزانے کو

پوچھتا کون ہے اس شہر میں دیوانے کو

گفتگو کوچہ و بازار کی لے آتے ہیں

جانے کیا لوگ سمجھتے ہیں خدا خانے کو

میں بنایا گیا ایثار و وفا کی خاطر

تیری تخلیق ہوئی ظلم و ستم ڈھانے کو

ہم سے ذی فہم ان آنکھوں کی پیا کرتے ہیں

نا سمجھ لوگ چلے جاتے ہیں میخانے کو

تم سے بگڑی ہوئی تقدیر ہماری نہ بنی

ہم تو گلزار بنا دیتے ہیں ویرانے کو

اپنی خاطر کوئی سوغات نہ مانگی اس نے

خط میں لکھا ہے مجھے لوٹ کے آ جانے کو

اس نے انجمؔ لب و رخسار کی رعنائی سے

دے دیا رنگ حقیقت مرے افسانے کو