Poetry
Poet
Meter
- آؤ ہم جشن منائیں کہ یہ دھرتی اپنییہ جہاں دیدہ معمر دھرتیQamar Jahan Naseer
- امیدوں آرزوؤں خوابوں کو مسمار کرتا سوچتا ہوں میںیہ میرے دست و بازو ہیںQamar Jahan Naseer
- چونک کر اٹھ بیٹھتی کیوں ہیںیہ آنکھیں نیند سےQamar Jahan Naseer
- عجب پاگل سی لڑکی تھیعجب سی خواہشیں اس کیQamar Jahan Naseer
- نار و نمرود کا وہ قصہ تو پارینہ ہےکیا کہاQamar Jahan Naseer
- ارادہ آہنی تھا یہ کہ تم کو بھول جائیں گےتمہارا خوبرو پیکرQamar Jahan Naseer
- تن نازک پہ اس کے پیرہن ہے سبز اور دھانیکہیں پر لاجوردی سرمئی اور نقرئی زیورQamar Jahan Naseer
- دنیا کے بکھیڑوں سے الجھتے ہوئے کل اچانکمیری نظر پڑی تو دیکھا کہQamar Jahan Naseer
- زمین کا خوبصورت سڈول جسمزخموں سے چورQamar Jahan Naseer
- عدد ریاضی کاخوف و دہشت کا زائیدہ بن کےQamar Jahan Naseer
- یہ عہد نو کا چلن ہے یا یہ شوق تمہارا ازلی ہےتم کلینڈر تاریخوں کوQamar Jahan Naseer
- اس بت کا انتظار کبھی ہے کبھی نہیںدل اپنا بے قرار کبھی ہے کبھی نہیںرنج حیدرآبادی
- ترا عاشق مرے سوا ہے کونبے وفا مجھ سا با وفا ہے کونرنج حیدرآبادی
- دل مرا لے کے یہ کہتے ہیں کہ مال اچھا ہےمنتیں خوب ہیں اور ان کا خیال اچھا ہےرنج حیدرآبادی
- عشق میں دوستو مزا بھی ہےسخت آفت بھی ہے بلا بھی ہےرنج حیدرآبادی
- کبھی قلق میں کبھی فکر و انتظار میں ہیںہزار طرح کے صدمے فراق یار میں ہیںرنج حیدرآبادی
- کون کہتا ہے یار نے مارایار کے انتظار نے مارارنج حیدرآبادی
- مجھ پر ان کا عتاب ہو ہی گیاجان پر اک عذاب ہو ہی گیارنج حیدرآبادی
- نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لیناجو یاد آؤں کبھی میں تو یاد کر لینارنج حیدرآبادی
- دل میں چمکے ہوئے ہیں داغ بہتروشن اس گھر میں ہیں چراغ بہترنج حیدرآبادی
- گھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیالنہ کچھ زمیں کی خبر ہے نہ آسماں کا خیالرنج حیدرآبادی
- ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھاعجب وہ روز تھے یا رب عجب مہینہ تھارنج حیدرآبادی
- پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سےصبح کی ہے آج بھی رو رو کے میں نے شام سےسید ہمایوں میرزا حقیر
- تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام راتکاٹی ہے میں نے کیا کہوں کیوں کر تمام راتسید ہمایوں میرزا حقیر
- تیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہےیہ آباد گھر اب لٹا چاہتا ہےسید ہمایوں میرزا حقیر
- چھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والےجی سے جاتے ہیں ترے کوچہ سے جانے والےسید ہمایوں میرزا حقیر
- دشمن کو لے کے ساتھ ستم گر ادھر بڑھاکچ درد سر گھٹا تھا کہ درد جگر بڑھاسید ہمایوں میرزا حقیر
- عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تکدکھ سہتا رہے آپ کا بیمار کہاں تکسید ہمایوں میرزا حقیر
- وہ نہ آیا کبھی ادھر افسوسغیر کا ہو گیا مگر افسوسسید ہمایوں میرزا حقیر
- درد دل اپنا سنانا چاہئےہنسنے والوں کو رلانا چاہئےسید ہمایوں میرزا حقیر
- کروں کس سے فریاد کیا ہو گیامرا یار مجھ سے جدا ہو گیاسید ہمایوں میرزا حقیر
- کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتےجب تلک دم نہ نکلتا اسے دیکھا کرتےسید ہمایوں میرزا حقیر
- مہندی پاؤں میں کیا لگانا تھایہ نہ آنے کا اک بہانا تھاسید ہمایوں میرزا حقیر
- درد اور رنج کی راہوں کا مسافر نکلااپنی ہی کوکھ سے روتا ہوا شاعر نکلاV. Sudhakar Rao
- لمحہ لمحہ میں گزار آیا ہوںزیست کا قرض اتار آیا ہوںV. Sudhakar Rao
- منظر شہر ہے خوں بار ذرا دیر سے آرو رہے ہیں در و دیوار ذرا دیر سے آV. Sudhakar Rao
- ہجر کی داستاں نئی لکھوںرات کاٹوں مگر صدی لکھوںV. Sudhakar Rao
- ہمارے واسطے رستے کہاں دعا کے تھےہزار زینے بس اپنے نقوش پا کے تھےV. Sudhakar Rao
- ہو گئی سیر جہاں کنج جہاں تک آ گئےاپنے گھر سے نکلے اپنے آشیاں تک آ گئےV. Sudhakar Rao
- آسماں پر نکل رہا مہتابدن کے دفتر پہ لگ رہا تالاV. Sudhakar Rao
- پیڑ پہاڑ گگنجس جگہ تھا جوV. Sudhakar Rao
- تیری قربت میں تیرے سائے میںچار دن زندگی کے جینا ہےV. Sudhakar Rao
- دوپہر تکچلا چلا کرV. Sudhakar Rao
- مٹتے ابھرتے چہروں کے دریا میںبنتے بگڑتے رشتوں کے طوفان کے بیچV. Sudhakar Rao
- بنا کر خود کو جس نے اک بھلا انسان رکھا ہےسکون قلب کا اپنے لئے سامان رکھا ہےVali Madni
- بہت ٹوٹا ہوں لیکن حوصلہ زندہ بہت کچھ ہےمرے اندر ابھی ایثار کا جذبہ بہت کچھ ہےVali Madni
- پھیلا نہ یوں خلوص کی چادر مرے لئےکل تک تھا تیرے ہاتھ میں پتھر مرے لئےVali Madni
- دل پیار کے رشتوں سے مکر بھی نہیں جاتاشاکی ہے مگر چھوڑ کے در بھی نہیں جاتاVali Madni
- سینے کے داغ ان کو دکھائے نہ جا سکےمجھ سے فسانے غم کے سنائے نہ جا سکےVali Madni
- فصیل ریگ پر اتنا بھروسہ کر لیا تم نےچھتیں بھی ڈال دیں اور وا دریچہ کر لیا تم نےVali Madni