Poetry

Poet
Meter
  1. آؤ ہم جشن منائیں کہ یہ دھرتی اپنییہ جہاں دیدہ معمر دھرتیQamar Jahan Naseer
  2. امیدوں آرزوؤں خوابوں کو مسمار کرتا سوچتا ہوں میںیہ میرے دست و بازو ہیںQamar Jahan Naseer
  3. چونک کر اٹھ بیٹھتی کیوں ہیںیہ آنکھیں نیند سےQamar Jahan Naseer
  4. عجب پاگل سی لڑکی تھیعجب سی خواہشیں اس کیQamar Jahan Naseer
  5. نار و نمرود کا وہ قصہ تو پارینہ ہےکیا کہاQamar Jahan Naseer
  6. ارادہ آہنی تھا یہ کہ تم کو بھول جائیں گےتمہارا خوبرو پیکرQamar Jahan Naseer
  7. تن نازک پہ اس کے پیرہن ہے سبز اور دھانیکہیں پر لاجوردی سرمئی اور نقرئی زیورQamar Jahan Naseer
  8. دنیا کے بکھیڑوں سے الجھتے ہوئے کل اچانکمیری نظر پڑی تو دیکھا کہQamar Jahan Naseer
  9. زمین کا خوبصورت سڈول جسمزخموں سے چورQamar Jahan Naseer
  10. عدد ریاضی کاخوف و دہشت کا زائیدہ بن کےQamar Jahan Naseer
  11. یہ عہد نو کا چلن ہے یا یہ شوق تمہارا ازلی ہےتم کلینڈر تاریخوں کوQamar Jahan Naseer
  12. اس بت کا انتظار کبھی ہے کبھی نہیںدل اپنا بے قرار کبھی ہے کبھی نہیںرنج حیدرآبادی
  13. ترا عاشق مرے سوا ہے کونبے وفا مجھ سا با وفا ہے کونرنج حیدرآبادی
  14. دل مرا لے کے یہ کہتے ہیں کہ مال اچھا ہےمنتیں خوب ہیں اور ان کا خیال اچھا ہےرنج حیدرآبادی
  15. عشق میں دوستو مزا بھی ہےسخت آفت بھی ہے بلا بھی ہےرنج حیدرآبادی
  16. کبھی قلق میں کبھی فکر و انتظار میں ہیںہزار طرح کے صدمے فراق یار میں ہیںرنج حیدرآبادی
  17. کون کہتا ہے یار نے مارایار کے انتظار نے مارارنج حیدرآبادی
  18. مجھ پر ان کا عتاب ہو ہی گیاجان پر اک عذاب ہو ہی گیارنج حیدرآبادی
  19. نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لیناجو یاد آؤں کبھی میں تو یاد کر لینارنج حیدرآبادی
  20. دل میں چمکے ہوئے ہیں داغ بہتروشن اس گھر میں ہیں چراغ بہترنج حیدرآبادی
  21. گھڑی گھڑی ہے ہمیں اپنے مہرباں کا خیالنہ کچھ زمیں کی خبر ہے نہ آسماں کا خیالرنج حیدرآبادی
  22. ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھاعجب وہ روز تھے یا رب عجب مہینہ تھارنج حیدرآبادی
  23. پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سےصبح کی ہے آج بھی رو رو کے میں نے شام سےسید ہمایوں میرزا حقیر
  24. تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام راتکاٹی ہے میں نے کیا کہوں کیوں کر تمام راتسید ہمایوں میرزا حقیر
  25. تیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہےیہ آباد گھر اب لٹا چاہتا ہےسید ہمایوں میرزا حقیر
  26. چھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والےجی سے جاتے ہیں ترے کوچہ سے جانے والےسید ہمایوں میرزا حقیر
  27. دشمن کو لے کے ساتھ ستم گر ادھر بڑھاکچ درد سر گھٹا تھا کہ درد جگر بڑھاسید ہمایوں میرزا حقیر
  28. عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تکدکھ سہتا رہے آپ کا بیمار کہاں تکسید ہمایوں میرزا حقیر
  29. وہ نہ آیا کبھی ادھر افسوسغیر کا ہو گیا مگر افسوسسید ہمایوں میرزا حقیر
  30. درد دل اپنا سنانا چاہئےہنسنے والوں کو رلانا چاہئےسید ہمایوں میرزا حقیر
  31. کروں کس سے فریاد کیا ہو گیامرا یار مجھ سے جدا ہو گیاسید ہمایوں میرزا حقیر
  32. کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتےجب تلک دم نہ نکلتا اسے دیکھا کرتےسید ہمایوں میرزا حقیر
  33. مہندی پاؤں میں کیا لگانا تھایہ نہ آنے کا اک بہانا تھاسید ہمایوں میرزا حقیر
  34. درد اور رنج کی راہوں کا مسافر نکلااپنی ہی کوکھ سے روتا ہوا شاعر نکلاV. Sudhakar Rao
  35. لمحہ لمحہ میں گزار آیا ہوںزیست کا قرض اتار آیا ہوںV. Sudhakar Rao
  36. منظر شہر ہے خوں بار ذرا دیر سے آرو رہے ہیں در و دیوار ذرا دیر سے آV. Sudhakar Rao
  37. ہجر کی داستاں نئی لکھوںرات کاٹوں مگر صدی لکھوںV. Sudhakar Rao
  38. ہمارے واسطے رستے کہاں دعا کے تھےہزار زینے بس اپنے نقوش پا کے تھےV. Sudhakar Rao
  39. ہو گئی سیر جہاں کنج جہاں تک آ گئےاپنے گھر سے نکلے اپنے آشیاں تک آ گئےV. Sudhakar Rao
  40. آسماں پر نکل رہا مہتابدن کے دفتر پہ لگ رہا تالاV. Sudhakar Rao
  41. پیڑ پہاڑ گگنجس جگہ تھا جوV. Sudhakar Rao
  42. تیری قربت میں تیرے سائے میںچار دن زندگی کے جینا ہےV. Sudhakar Rao
  43. دوپہر تکچلا چلا کرV. Sudhakar Rao
  44. مٹتے ابھرتے چہروں کے دریا میںبنتے بگڑتے رشتوں کے طوفان کے بیچV. Sudhakar Rao
  45. بنا کر خود کو جس نے اک بھلا انسان رکھا ہےسکون قلب کا اپنے لئے سامان رکھا ہےVali Madni
  46. بہت ٹوٹا ہوں لیکن حوصلہ زندہ بہت کچھ ہےمرے اندر ابھی ایثار کا جذبہ بہت کچھ ہےVali Madni
  47. پھیلا نہ یوں خلوص کی چادر مرے لئےکل تک تھا تیرے ہاتھ میں پتھر مرے لئےVali Madni
  48. دل پیار کے رشتوں سے مکر بھی نہیں جاتاشاکی ہے مگر چھوڑ کے در بھی نہیں جاتاVali Madni
  49. سینے کے داغ ان کو دکھائے نہ جا سکےمجھ سے فسانے غم کے سنائے نہ جا سکےVali Madni
  50. فصیل ریگ پر اتنا بھروسہ کر لیا تم نےچھتیں بھی ڈال دیں اور وا دریچہ کر لیا تم نےVali Madni