اس کو خلوت کا میری پاس نہیں

Saa’in Alig

اس کو خلوت کا میری پاس نہیں

کیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیں

نا شناسا کوئی اگر ہو بھی

میرے نالوں سے نا شناس نہیں

کیا ہوا غم کے پاسداروں کو

کس لیے محو حزن و یاس نہیں

چاہتا ہوں جسے قریب اپنے

اک وہی شخص میرے پاس نہیں

برسر بزم ہے وہ جلوہ نما

حیف اس کو حیا کا پاس نہیں

خون کو خون جو نہیں کہتے

ایسے لوگوں سے کوئی آس نہیں

گالیاں بھی نہیں قبول انہیں

اور عزت بھی ان کو راس نہیں

ساقیا جام اسی کو دیتا ہے

قطرہ بھر کی بھی جس کو پیاس نہیں

کون ہم سا ملول ہے جگ میں

جز ملال اپنی کچھ اساس نہیں

بعد صائنؔ کے اتنا یاد رہے

کوئی عاشق کا غم شناس نہیں